مسلم شخص کا رکشہ ایمبولینس سروس میں تبدیل

کورونا وائرس کی بدترین صورتحال سے دوچار بھارت کے ایک مسلمان رکشہ ڈرائیور نے اپنا رکشہ ایمبولینس میں تبدیل کرکے مریضوں کو مفت سروس فراہم کرنا شروع کردی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوپال سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ جاوید خان نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے پر خوفزدہ ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے پاس موجود معمولی وسائل سے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔

جاوید خان نے کہا کہ’میں نے اپنی رکشہ ایمبولینس میں سینیٹائزر، کچھ دوائیں اور آکسیجن سلنڈر لگایا ہے اور گزشتہ تین دنوں میں 10 مریضوں کی مدد کی ہے جنہیں اسپتال پہنچنے کی اشد ضرورت تھی۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’اس کام کے لیے اُن کی اہلیہ نے اپنا سونے کا لاکٹ فروخت کیا تاکہ ہم مریضوں کی مفت مدد کرسکیں۔‘

جاوید خان نے کہا کہ ’میں نے اب مسافروں کو اپنے رکشے میں بٹھانا بند کردیا ہے اور دیگر رکشہ ڈرائیورز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس کام میں شامل ہوجائیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’میرے لیے اولین ترجیح ہمارے عوام ہیں، ان کی زندگیاں بچانے کے لیے مجھے قرضہ بھی لینا پڑا تو میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا۔‘

جاوید خان نے مزید کہا کہ ’اس وقت بھارت میں آکسیجن سلینڈرز لینا بہت ہی زیادہ مشکل کام بن گیا ہے اور میں تقریباََ 4 سے 5 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد سلینڈر بھرواتا ہوں۔‘

واضح رہے کہ بھارت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناوائرس کی ہلاکت خیزی بڑھنے لگی، ایک روز میں تین لاکھ 80 ہزار مریض سامنے آئے، تین ہزار چھ سو جان سے گئے۔

مختلف ریاستوں میں ایمبولینسوں کی کمی نے لوگوں کو لاشیں کندھوں پر اٹھا کر شمشان گھاٹ تک لانے پر مجبور کردیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو