قرض، قوم اور ٹیکس

 قرض صرف فرد واحد لیتا ہے۔ میں قرض لے سکتا ہوں۔ آپ قرض لے سکتے ہیں۔ فرم میں ایک سے زیادہ لوگ حصہ دار ہیں۔ پروجیکٹ کو بڑھوتی دینے کے لئے یا پیداوار بڑھانے کے لئے، اگر پیسے کی ضرورت ہے، تو آپ سب مل کر تھوڑا تھوڑا سرمایہ ڈال لیں۔ یہ ممکن نہیں تو ایک اور شراکت دار شامل کرلیں۔  بینک شراکت داری کر لے۔ لیکن قرض نہیں ہونا چاہئے۔ سود  پہ قرضوں  کی مثال صرف یہودیوں کی تاریخ  میں ہی ملتی ہے۔ کبھی فرم/کمپنی/صوبہ/ریاست/قوم قرض نہیں لیتے۔ لیکن موجودہ معاشی نظام میں ایسا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ نظام انسانوں نے ہی بنایا ہے۔ قوموں کو قرض کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں قرض لے کر نہیں بنتی بلکہ نظریہ، اتحاد اور نظم سے بنتی ہیں۔ لیکن یہاں پہ تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ نہ نظریہ ہے، نہ اتحاد ہے اور نہ ہی نظم ہے۔ حکومت پاکستان قرض لے رہی ہے، سٹیٹ بینک سے۔ حکومت پنجاب قرض لے رہی ہے، پنجاب بینک سے۔ سندھ گورنمنٹ قرض لے رہی ہے، سندھ بینک سے۔یہ صوبائی بینک کم شرح سود پہ سٹیٹ بینک سے قرض لیتے ہیں اور پھر حکومت کو قرض دیتے ہیں زیادہ شرح سود پہ۔ وفاقی حکومت بھی قرض لیتی ہے۔ وفاقی حکومت سٹیٹ بینک، عالمی مالیاتی بینک، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے  قرض لیتی ہے اور پوری قوم قرض کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

ایک فقرہ ہر دفعہ ہر ایک  وزیر خزانہ کے منہ سے سننے کو ملتا ہے۔ ملکی حالات کی سنگینی  کے پیش نظر مزید ٹیکس لگانا ضروری ہوگیا ہے یا قرض لینا ضروری تھا۔  کوئی حد ہوتی ہے ظلم کی۔ کبھی انجمن تاجران سے مذاکرات۔ کبھی صنعت کاروں سے مذاکرات۔ آپ ایسے کام کرتے ہی کیوں ہیں کہ مذاکرات کرنا پڑیں۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ بغیر کسی قانون قاعدے کےکوئی کہے دس لاکھ روپے دو اور بات چیت کرکے اسے پانچ لاکھ روپے پہ راضی کرلیں۔ اب اس کے ذہن میں بھی ہوتا ہے کہ دے دئیے تو ٹھیک ورنہ کچھ تو دے گا ۔ اکثر حکومت ایک چیز مہنگی کرتی ہے۔ شور مچتا ہے اور آخر میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تین روپے قیمت بڑھائی اور ایک روپیہ کم کردی۔ مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ جبکہ اب تو عوام کی فریاد پہ حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ یہ عوام کے ساتھ مذاکرات نہیں بلکہ “مذاق رات “ہے۔

پاکستان کے موجودہ دستور میں لکھا ہے کہ ملک کا دستور قرآن و سنت کا پابند ہوگا تو کم از کم آپ جو بھی نئے قوانین یا آرڈر جاری کررہے ہیں وہ تو اسلام کے عین مطابق ہوں۔ جب اسلام  ایسے ٹیکس لگانے کی اجازت ہی نہیں دیتا تو آپ بجائے اپنے معاشی نظام کو اسلام کے مطابق کرنے کے، مزید ٹیکس لگانے کا اختیار تو رکھتے ہی نہیں۔  حکومتیں قرآن و سنت کے مطابق دستور سازی نہیں کررہیں لیکن غیر شرعی کاموں سے رک جائیں، مزید ٹیکس نہ لگائیں، بلکہ ٹیکس کم کردیں۔ البتہ ٹیکس وصولی کا نظام بہتر اور موثر ہونا چاہئے۔  ایسا بھی نہیں ہورہا۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو