آمرانہ معاشی نظام اور مقروض ریاستیں

امور ریاست سرانجام دینے کے لئے سرکاری خزانہ ہونا ضروری ہے۔ آمریت کے دور میں سرکاری خزانہ بادشاہوں کے رحم و کرم پہ ہوتا تھا۔ اس کی آمدنی کے ذرائع بھی بادشاہ خود مقرر کرتا اور جب چاہتا اور جنتا چاہتا لوگوں سے پیسہ وصول کرکے خزانہ بھرلیتا اور اپنی ذاتی ملکیت گردانتے ہوئے اپنی  عیش و عشرت پہ خرچ کرلیتا۔آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ سربراہان مملکت جتنا چاہتے ہیں، ٹیکس لگا کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔ شاندار محل تعمیر کرتے ہیں۔ عیش و عشرت سے رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں ریاستوں کو سودی معاشی نظام کے تحت قرضوں میں جکڑنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ جس میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ کوشش کوئی نئی نہیں بلکہ سودی نظام کی تاریخ بہت پرانی ہے اور تاریخ میں یہودی ہی سود کا کاروبار کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن سود کے ذریعے ایک ایک فرد کو مقروض کرتے تھے اور اپنی اجارہ داری قائم رکھتے تھے۔ جبکہ ریاستوں اور قوموں کو مقروض کرنے کا سلسلہ خلافت عثمانیہ کے آخری سالوں میں اور مغربی جمہوریت کی ابتداء کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو