فقہی اختلاف

چاروں فقہ میں احکامات کی ادائیگی کی ترجیحات میں کچھ فرق ہے۔ یعنی اگر ایک کام کو کرنے کا احادیث میں ایک سے زیادہ طریقہ ملتا ہے تو ایک فقہ کہتی ہے کہ اس طرح سے کرنے کا زیادہ اجر ہے اور دوسری فقہ دوسرے طریقے کو ترجیح دیتی ہے۔

اس کی مثال ایک واقعہ سے واضح ہوجاتی ہے کہ ایک لشکر کو نبی کریم ﷺنے بنو قریظہ کی جانب روانہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عصر کی نماز وہاں جا کر ادا کرنا۔ اب رستے میں عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تو صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کے ایک گروہ نے کہا کہ ہمیں نماز ادا کرلینی چاہیے ۔ نبی کریم ﷺنے اس لیے ہمیں وہاں جا کر نمازادا کرنے کا حکم دیا تھا کہ ہم وہاں جلدی پہنچیں۔صحابہ کے ہی دوسرے گروہ نے کہا کہ چونکہ نبی کریم ﷺنے ہمیں وہاں جا کر نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے تو ہم وہاں جا کر ہی نماز ادا کریں گے۔ جب یہ گروہ اس مقام پہ نماز ادا کر چکے تو رستے میں نماز ادا کرنے والا گروہ بھی وہاں پہنچ گیا۔ اب جب یہ معاملہ دربار نبویﷺ میں پیش ہوا تو آپ ﷺنے خاموشی اختیار کی۔ یعنی دونوں گروہوں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا۔

میں ایسے علاقے میں ہوں جہاں  پلاٹ کی پیمائش فٹ (feet)میں ہوتی ہے ۔اور میں شروع سے فٹ (feet)کا ہی عادی ہوں۔ لیکن میں میٹر کو پیمائش کے لیےاستعمال کرنے کو غلط نہ کہہ سکتا ہوں۔ ایسے ہی فاصلوں کے لیے میں کلومیٹر میں ماپتا ہوں لیکن میلوں میں فاصلوں کی پیمائش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جبکہ مجھے اگر فٹ (feet)کی نسبت میٹر میں کسی جگہ کا پلاننگ کرنا پڑے تو مجھے مشکل درپیش آتی ہے۔کیونکہ میرے روزمرہ کے تجربات میں میٹر نہیں بلکہ فٹ ہیں اور  فاصلوں کا میلوں میں اندازہ لگانا میرے لیے مشکل ہےاور کلومیٹر میں آسان۔ ایسے ہی میں نے ایک احاطے کا نقشہ بنایا۔ دوسرے معمار نے بھی نقشہ بنایا۔ نقشہ میں بہتری کے لئے بحث تو کی جاسکتی ہے۔ اس میں اختلاف یا مرنے مارنے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاکستان میں ہی کراچی اور گردو نواح میں پلاٹ کو گزوں میں ماپا جاتا ہے۔ جب کہ لاہور اور گردو نواح میں مرلہ کا نظام ہے۔ اب اس میں بھی  اختلاف والی کونسی بات ہے؟۔۔۔ ایسے ہی چاروں فقہ کے معاملے میں فقہی اختلاف میں لڑائی کی کوئی وجہ نہ ہے۔ جیسے فاصلوں کی پیمائش میل میں بھی کی جاسکتی ہے اور کلومیٹر میں بھی اور دنیا کے اکثر ممالک میں دونوں ہی طریقے رائج ہیں۔ لیکن مقصد پیمائش کرنا ہی ہے۔اور دونوں صورتوں میں مقصد پورا ہوتا ہے۔ اب اگر ایک مسافر کہتا ہے کہ میل میں پیمائش کرنا زیادہ بہتر ہے توممکن ہےکہ کلومیٹر میں پیمائش کرنے میں دوسرے مسافر کو سہولت ہو۔

ہم پنساری کے پاس جاتے ہیں ، جہاں تمام جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔ لیکن وہ آپ کا علاج نہیں کرسکتا ۔ اس کے لئے آپ کسی حکیم کے پاس جائیں گے۔ وہ مرض کی تشخیص کرکے آپ کو نسخہ لکھ کر دے گا،وہ نسخہ آپ پنساری کے پاس لیکر جائیں گے اور پھر وہ دوا تیار کروا کراستعمال کرنے سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ کسی بھی مرض کی تشخیص اور دوا تجویز کروانے کے لئے آپ پہلے ڈاکٹر کے پاس جائیں گے وہ آپ کے لئے دوا تجویز کرے گا اور آپ میڈیکل سٹور سے دوا حاصل کریں گے۔ دوا تو میڈیکل سٹور پہ موجود تھی لیکن آپ ڈاکٹر کے پاس دوا تجویز کروانے کیوں گئے؟۔۔۔ ایسے ہی ایک طبیب آپ کے لئے ایسا نسخہ تجویز کرے گا جو کہ اس کی تحقیق کے مطابق آپ کا علاج کرنے کے لئے زیادہ موثر ہو لیکن دوسرا طبیب مختلف نسخہ تجویز کرتا ہے کہ یہ نسخہ زیادہ موثر ہے۔ اگر کسی کو دل کی تکلیف ہو اور وہ کسی ہارٹ سپیشلسٹ کے پاس جائے اور اسے آرام آجائے تو وہ ہرگز دوسرے ماہرین امراض قلب  کوبرا بھلا نہیں کہے گا۔ نہ ان پڑھ کہے گا۔ نہ ہی ان کو غلط کہے گا۔  کیونکہ اسے پتہ ہے کہ سب کی تعلیم ایک جیسی ہے اور دل کے امراض سے متعلقہ  کتب کا ہی مطالعہ کیا ہے لیکن صرف فرق ان کی تشخیص یا علاج کرنے کے انداز میں ہو سکتا ہے۔ کوئی جاہل ہی کسی اپنے معالج کی وجہ سے  دوسرے معالج کو برابھلا کہے گا۔ حفاظ اکرام اور محدثین کی مثال ایسی  ہی ہے کہ ان کے پاس  قرآن کے احکامات اور حدیث کی مطابق تشریحات بھی موجود ہیں لیکن احکامات  پہ عمل کی کون سی عملی شکل اللہ کے ہاں زیادہ مقبول ہوسکتی ہے اور نبی کریمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ان کی درجہ بندیاں کیا ہیں، یہ فقہاء امت نے ترتیب دے دیا۔ قرآن کے حفاظ بھی موجود ہیں اور محدثین بھی موجود ہیں، جنھیں احادیث یاد ہیں۔ اس لئے کونسا مسئلہ کیسے اخذ کرنا ہے  ،یہ فقہاء کا درجہ ہے۔ تاریخ میں بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ محدثین نے بھی بعد ازاں باقاعدہ فقہ کا فن سیکھا۔ تاکہ مسائل کا حل اخذ کرنے کا فن حاصل کرسکیں۔  قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی کرنے کے قابل حضرات کو ، خود نبی کریم ﷺنے مختلف علاقوں کی جانب تربیت کی ذمہ داری دے کر بھیجا۔

ایسے ہی ہم چونکہ برصغیر میں رہتے ہیں اورہم  فقہ حنفیہ کی اصطلاحات سے واقف ہیں ،ہمیں اپنے علاقوں میں علماء میسر ہیں،  ان کی محافل میسر ہیں اور ان کے خطبات سنتے رہتے ہیں ۔ہم روزمرہ کے ماحول میں گفتگو بھی فقہ حنفیہ کے مقلد علماء  و عامۃ المسلمین سے سن رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم  معمولات میں فقہ حنفی کی طرز پہ اسلام پہ باآسانی عمل کرسکیں گے۔ لیکن اگر ہم کسی دوسرے علاقے مثلا سعودی عرب میں چلے جائیں تو ہمیں فقہ حنبلی سے اختلاف نہیں کرنا چاہئے۔ کسی مسئلے کا  حل بھی وہاں کے علماء قرآن و سنت کے مطابق ہی بتائیں گے۔ جو سعودی عرب میں رہتے ہیں ، ان لوگوں کے لیے وہاں پہ رائج فقہ پہ عمل کرنا آسان ہے، جس میں کوئی حرج نہیں اور فقہاء کے عمل سے بھی یہ ثابت ہے۔ جیسے پاکستانی فوج کا سپاہی یہاں کی تربیت کے مطابق عسکری فرائض سرانجام دے گا لیکن اگر پاکستانی فوجی سعودی فوجی کے ساتھ ملکر کسی محاذ پہ کام کرے گا تو دونوں میں سے کسی ایک کی ہی مانی جائے گی۔ جبکہ دونوں ہی فوجی ہیں اور عسکری تربیت یافتہ ہیں۔ اب اگر سعودی فوجی پاکستانی حدود میں ہے تو وہ پاکستانی فوج کے مطابق ہی فرائض سرانجام دے گا اور اگر پاکستانی فوجی سعودی عرب میں ہے تو وہ وہاں کی فوج کے مطابق فرائض سرانجام دے گا۔ اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے۔

ایک ضمنی بحث ہے ، جو کہ رفع یدین اور نماز میں ہاتھ اوپر یا نیچے باندھنے کی ملتی ہے،  آمین اونچی آواز میں کہنے اور  آہستہ سے کہنے، قنوت، نماز وتر میں رکوع سے پہلے ہو یا بعد میں وغیرہ ۔ان تمام مسائل میں بالاتفاق امت میں دونوں صورتیں جائز ہیں اور دونوں صورتیں نبی کریمﷺ سے ثابت ہیں۔  اختلاف صرف ترجیح میں ہے۔ ایک کہتے ہیں کہ ایسا کرنا مستحب ہے اور دوسرے ثابت کرتے ہیں کہ یہ کرنا مستحب ہے۔ یہ عمل اللہ کے ہاں زیادہ مقبول ہوگا، دوسرے کہتے ہیں کہ یہ عمل زیادہ اللہ کے ہاں مقبول ہوگا۔ یہ اختلاف افضل ہونے  کا  ہے ۔ اور یہ  ایسا  مسئلہ ہے کہ امام شافعی جب امام ابوحنیفہ کے مزار کے قریب سے گزرے تو نماز پڑھتے ہوئے انھوں نے بھی نماز میں رفع یدین نہ کیا کہ اس علاقے میں فقہ حنفی رائج ہے۔اگر یہ اتنا بڑا مسئلہ ہوتا تو یقینا وہ نماز میں رفع یدین کرتے۔نبی کریم ﷺ کے اتفاقا یا عادتا صادر ہونے والے امور کو بھی ثواب کی نیت سے کرنے کی تلقین کچھ فقہاء کرتے ہیں۔جس میں کوئی حرج نہ ہے بلکہ اجر کا باعث ہے۔ کبھی کسی فقہی نے کسی دوسرے کی عبادت کو مکروہ یا ناجائز قرار نہ دیا۔ اب جب کہ فرائض /سنت میں اختلاف نہ ہے۔ عقیدہ میں اختلاف نہ ہے۔ مستحبات میں ترجیحی اختلاف ہے تو یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک بیٹا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ باپ سے زیادہ پیار کرتا ہے اور دوسرا اپنے انداز سے ثابت کرے کہ وہ باپ سے زیادہ پیار کرتاہے۔ لیکن دونوں کی اولاد کو کیا ضرورت ہے لڑنے کی، کہ ہمارے والد اپنے باپ سے زیادہ پیار کرتے تھے۔

علماء میں یہ معرفانہ بات سنی تھی ۔ اللہ کریم نے چاروں فقہ کے ذریعے ، نبی کریم ﷺکے تمام افعال خواہ وہ عادۃ/اتفاقا صادر ہوئے ہوں یا  عبادۃ صادر ہوئے ہوں، کو اختیار کرنے کی مسلمانوں کو سعادت عطا کی۔ایک مولانا صاحب اسی موضوع پہ رہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبوت کی عمارت میں آخری اینٹ نبی کریم ﷺکی صورت میں لگی اور عمارت مکمل ہوگئی۔ اب اس عمارت میں اللہ کے احکامات موجود تھے۔ تو چار فقہاء نے ان کو اپنے اپنے  انداز میں ترتیب دیا۔ آپ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے خوبصورت سجایا۔ ایسے ہی امام مالک کے متقدمین کہتے ہیں کہ امام مالک نے کیا خوب سجایا۔ زید کہتا ہے کہ امام شافعی نے کیا خوب سجایا۔ بکر کہتا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے کیا خوب سجایا۔ میں کہتا ہوں کہ چاروں نے کیا خوب اپنے اپنے انداز سے سجایا ۔ اب اس میں اختلاف کہا ں سے آگیا۔ ایک کام زید اور بکر  اپنے اپنے انداز سے کرتے ہیں۔ دونوں تمام احتیاط ملحوظ رکھتے ہیں۔ پھر بھی ان میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہوگا۔ لیکن  وہ اختلاف نہیں۔

فقہاء عظام نے آنے والوں کی رہنمائی کے لئے سب کچھ مرتب کیا اور ضبط قلم کر دیا اور اس اختلاف کو امت کا حسن قرار دیا کہ افضل سے افضل  کی تلاش میں امت مسلمہ سرگرداں رہتی ہے۔ فقہ کی کتابیں دراصل یا قرآن مجید کی  تفسیر ہیں یا احادیث بیان کرکے، ان کی شرح کرکے احادیث سے اصول حاصل کیے گئے ہیں۔ میں پھر عرض کررہاہوں کہ فقہ کوئی من مانی ریسرچ کا نام نہیں۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سوچتا تو موزوں پہ مسح اوپر سے نہیں بلکہ نیچے سے کرنے کا کہتا، کیونکہ موزوں نے نیچے سے زمین پہ لگنا ہوتا ہے۔

تمام تر اسلامی حکومتیں کسی نہ کسی فقہ کےاصول و ضوابط کی روشنی میں ہی نظام حکومت چلاتی رہی ہیں۔ اس لئے میں نے ایک کوشش کی کہ یہاں فقہ کی اہمیت کو اجاگر کرسکوں۔

اگر فقہ کے ذریعہ ہمیں سب اصول و قوانین مرتب شدہ نہ ملتے تو ہم ایک ایک مسئلے پر بحث کررہے ہوتے اور شاید ہم آج کے دور میں کسی نتیجہ پہ نہ پہنچ پاتے۔ یہ فقہاء کا احسان ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں سب علوم مرتب کردئیے۔ امام ابوحنیفہ تابعی تھے اور انھوں نے چالیس جید ترین علماء کی مدد سے فقہ مرتب کی۔ ایسے ہی امام مالک بھی تابعی تھے اورمدینہ منورہ میں مقیم رہے، وہ اہل مدینہ کے فعل کو سند مانتے ہیں۔ باقی دونوں فقہاء تبع تابعین ہیں۔

امت مسلمہ ہمیشہ تمام فقہاء کی احسان مند رہے گی، جنہوں نے اس دور میں تحقیق کرکے ، علوم کو مرتب کیا ۔ احادیث کی حفاظت اور صحت جانچنے کے لئے  علوم ایجاد کئے ۔ صحیح بخاری میں امام بخاری خود احادیث کی شرح میں فقہی بحث کرتے ہیں۔امام بخاری ، امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ صحیح بخاری میں ایک ایک حدیث کو کئی مرتبہ بیان کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ احادیث کو متعلقہ باب میں بیان کرکے ان سے فقہی مسائل بیان کررہے ہیں۔ ایسے ہی فقہ مالکی کی بنیادی کتاب موطا ہے ۔ جس میں فقہی اعتبار سے احادیث جمع کی گئی ہیں اور ان سے مسائل اخذ کئے گئے ہیں۔

المختصر، فقہ قرآن و حدیث  کی ہی روشنی میں  مسائل  اخذ کرتی ہے، لیکن مسائل کا حل نکالنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ ماہرین کا ہی کام ہے۔ اب اس میں اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف عوام الناس میں لڑنے مرنے کا باعث نہیں ہے۔ کیونکہ  چاروں مروجہ فقہ کی بنیاد میں اصول  قرآن و سنت سے ہی لئے گئے ہیں۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو