فقہ کا اختیار کرنا

کچھ زیادہ عرصہ قبل تک، فقہ کو اختیار کرنے کے معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ملتا۔ البتہ تاریخ میں غیر مقلد حضرات بھی ملتے ہیں۔ غیرمقلد زیادہ تر وہ جید علماء و مشائخ  ہوتے تھے جنہیں اللہ کریم نے وسیع علم عطا کیا تھا اور چاروں فقہ کی کتب کے مطالعہ و تحقیق کے حامل ہوتے تھے اور چاروں فقہ سے مسئلہ بیان کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ یہ زیادہ وقت تحقیق و تصنیف  یا اصلاح سالکین میں وقت بسر کرتے تھے۔ انھیں ادراک تھا کہ حلقہء ارادت سے نئی فقہ یا فرقہ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، جس میں یہ احتیاط ملحوظ رکھتے تھے۔ یہ بزرگ شیخ کہلاتے تھے۔ کیونکہ ان کے سالکین میں ہر فقہ کے مقلدین فیض یاب ہونے آتے تھے اور ان کا مطالعہ و تحقیق بہت وسیع ہوتی تھی۔ یہاں سے سلاسل تصوف کی بنیاد پڑی۔ یہ کسی قسم کی فرقہ پرستی یا کسی کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اصلاح اور تزکیہ کے احکامات کے مصداق یہ عظیم ہستیاں تاریخ اسلام کا سرمایہ ہیں، انھوں نے عالم اسلام کو چاروں فقہ میں تحقیقی خدمات بھی دی ہیں۔ ان ہی میں سے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ مولانا عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔ جبکہ ان کے شاگردوں میں فقہ حنفیہ کے مقلدین بکثرت ہیں۔

الافاضات الیومیہ ج۴ ص ۲۹۰ میں کسی انگریز کا قول نقل کیا گیا ہے، “حنفی مذہب کے بغیر سلطنت چل نہیں سکتی کیونکہ اس قدر وسعت اور مراعات مصالح مذہب میں نہیں پائی جاتیں”۔ اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ فقہ اسلامی میں سلف صالحین کی تحقیق سے مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیرمسلموں نے سائنس، ریاضی، کیمیا، طبیعات، علم الاجسام و دیگر علوم کے علاوہ نظام حکومت  کے لئے بھی اسلامی کتب سے استفادہ کیا ہے۔

انفرادی معاملات سے لیکر حکومتی معاملات تک سب معاملات قرون اولی میں ہی مرتب ہوچکے ہیں۔ اس دور کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ وہ دور اسلام کی اصل یعنی عہد رسالت اور عہد صحابہ سے قریب ترین تھا ، اس لئے امت مسلمہ میں ان فقہاء کی تحقیق و ترتیب کو ہی ہمیشہ  معتبر گردانا جاتا ہے۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو