پاکستان میں عوامی حکومت

“مغربی جمہوریت کا مطلب ہے کہ حکومت عوام سے، حکومت عوام کے لیے، حکومت عوام کی”

اسلام کی تعلیمات اور مغربی نظریہ  جمہوریت کے تصور حاکمیت میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ مغربی جمہوریت ہو یا آمریت دونوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ حکومت، حکومت چلانے کا اختیار یا قانون سازی یا دستور سازی انسانوں کے ہاتھ میں رہے اور وہ اپنی من مانی کرسکیں۔ اب اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اس ملک کے باشندوں کے پاس رہے، بلکہ اشرافیہ میں سے چند ایک کے پاس حکومت و اختیار آ جائے۔ تاکہ من پسند فیصلے کئے جاسکیں۔ علامہ اقبال نے اس کی تشریح یو ں کی۔

جفائیں بھی ہیں، فریب بھی ہیں، نمود بھی ہے، سنگھار بھی ہے
اور اس پہ دعوائے حق پرستی ، اور اس پہ یاں اعتبار بھی ہے

جو بندہ اللہ کےدین پہ عمل کرتا ہوا، حادثاتی موت فوت ہوجائے، اسے شہید کہتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں رہ کر دین پہ عمل کرنا بھی جہادہےاور میدان جنگ میں دشمن کے خلاف برسرپیکار ہونا بھی جہاد ہے۔ دونوں کی اپنی حیثیت مقرر ہے اور احادیث میں ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔  ایک مسلمان نماز، روزہ، زکوۃ، اخلاقیات، معاملات میں دین کے مطابق زندگی گزار رہاہے ۔ اب وہ کسی حادثہ یا اپنے عزت، جان، مال کی حفاظت کرنےکے دوران موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو وہ شہید  ہے۔ ہم ظلمت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتنا گرتے جارہے ہیں کہ ہم نے شرعی اصطلاحات کو بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا اور “شہیدجمہوریت” کے خطابات سے نوازا  جاتا ہے۔ یہاں مغربی جمہوریت ہمارے عقائد کو بگاڑنے کا کام کررہی ہے۔

“سب چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہم جنت میں مزے کریں، لیکن اسلام پہ عمل نہیں کرتے”

سیاسی جماعتوں کے سربراہان، عہدیداران  اور ممبران سٹیج اور ذرائع ابلاغ پہ آ کر دعوے کرتے ہیں ، الزام لگاتے ہیں اور بہتان لگاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ جبکہ بہتان بہت بڑا گناہ  ہے اور قابل تعزیر جرم ہے۔  جو کہ آج کی سیاست میں عام ہے۔  جب کہیں مواخذہ ہوگیا تو کہہ دیا کہ یہ سیاسی بیان تھا۔ گویا عوام کو دھوکہ دینا، جھوٹ بولنا، الزام لگانا، بہتان تراشی کرنا ہی سیاست قرار پائی۔ بہتان لگانے میں “یوٹرن “، “چور” جیسے خطابات بھی مشہور ہوئے اور  “Go ABC Go” جیسے نعرے  عوام میں مقبول کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ بد اخلاقی کرنا بھی مغربی جمہوریت ہے۔

”  کیا جمہوری نظام حکومت کے ذریعے، عوام  اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لا سکتی ہے؟۔۔۔”

موجودہ سیاسی نظام میں صبح و شام جمہوریت جمہوریت کا ورد کرتے ہوئے سیاستدان نظر آتے ہیں۔ جھوٹ، مکر، فساد کی سیاست کا رواج ہے۔ اور اس بات کا ادراک دنیا بھر کےسیاستدانوں کو بھی ہے کہ مغربی جمہوریت کا نظریہ اب زیادہ عرصہ ریاستی امور نہیں چلا سکے گی۔ اس لئے ہر سیاستدان یہی منت کرتا نظر آتا ہے۔ جمہوری ادارے مضبوط ہورہے ہیں۔ جمہوریت پنپ رہی ہے۔ جمہوریت کو مضبوط ہونے کے لئے وقت دیں۔ پھر جمہوریت آپ کو دے گی۔ تاکہ جتنا وقت گزر سکتا ہے گزار لیں۔

“پاکستان میں نظام حکومت آج بھی برطانیہ اوربھارت کی پالیسیوں کا تسلسل ہے”

پاکستان میں ایک ترمیم کے ذریعے صدراور گورنرز کو مکمل طورپر ایک خانہ پری کے لئے محدود کردیا گیا۔اگر آپ نے ان سے اختیارات واپس لے ہی لئے ہیں تو قوم پر مہربانی کریں اور ریفرنڈم کرواکر صدارتی نظام نافذ کردیں۔ کم ازکم  حکومت سے معاشی بوجھ توکم ہو جائے۔ لیکن ارباب اختیار کو کوئی پرواہ نہیں کہ یہ پیسہ ملک کی فلاح و ترقی میں استعمال ہوسکتا ہے، کسی غریب کے کام آسکتا ہے۔ کوئی بھی قانون یا طریقہ کار مرتب کرنے کے لئے انھیں کئی سال چاہئے۔

“دنیا میں چورانوے ممالک میں صدارتی نظام  اور باون ممالک میں بادشاہی نظام حکومت چل رہا ہے،
جبکہ صرف سنتالیس ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔ جبکہ  صدارتی و بادشاہی نظام حکومت ،
پارلیمانی نظام حکومت کی نسبت زیادہ کامیاب چل رہا ہے”

یہ ہے مغربی جمہوریت اور مغربی جمہوریت کا پھندا جو کہ دو قومی نظرئیہ کا گلہ گھونٹنا چاہتا ہے۔ اسی مغربی جمہوریت کے بارے میں علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں فرمایا تھا۔

ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک

جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہِ افلاک

“ملوکیت ہو یا مغربی جمہوریت، دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ظلم ہی ہے”

تحریر : میاں قاسم صحرائی
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو