جمہوریت میں تصور کثرت رائے

ہمارے موجودہ آئین کی دفعات 62 اور 63 کے مطابق ہم نے نیک، سچے اور ایماندار آدمی کا چناﺅ کرنا ہے کہ جس شخص کو ہم ووٹ دے رہے ہیں، وہ سب سے نیک بھی ہے، سچا بھی ہے اور ایماندار بھی ہے۔ اب ایک گانے والا بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے، اب اس کے پرستار اور چاہنے والوں میں سے چھ سو بندے یہ رائے دے دیتے ہیں کہ یہ اصل میں بہت نیک ہے اور پرہیزگار ہے۔ لیکن آٹھ سو بندے  ایک نیک  اور پڑھے لکھے فرد کے بارے میں رائے دیتے ہیں کہ یہ بہت نیک ہیں ایماندار اور سچے بھی ہیں۔ لیکن ایک کاروباری شخصیت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اور اس کی آن بان  سے مرعوب ہوکر اور ذرائع ابلاغ ایڈورٹائزمنٹ کی وجہ  سے ایک ہزار بندے اس کے حق میں گواہی دے دیتے ہیں کہ نہیں اصل میں تو ایماندار، نیک اور سچا آدمی تو یہ ہے۔اب گلوکار اور نیک آدمی کے ووٹ ملا کے چودہ سو ووٹ کاروباری شخصیت کونیک نہیں کہہ رہے ہیں لیکن ایک ہزار لوگوں نے ایک پرہیزگار آدمی کو نیک، سچا اور ایماندار نہیں کہا تو ہم مغربی جمہوریت کو ہی ٹھیک کہیں گے؟۔۔۔  ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ مغربی جمہوریت میں ہر جگہ اور ہر موقع پہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ ہم غلط بندے کا ہی چناﺅ کرتے ہیں اور اکثریت بھی اس کے حق میں نہیں ہوتی۔  چلیں اب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ عوام بہت سیانی ہے اور پڑھی لکھی ہے۔ اب ایک ہزار لوگوں نے رائے دی کہ ایک نیک اور پرہیز گار آدمی ہی اصل میں نیک، ایماندار اور سچا  آدمی ہے۔ لیکن مقابلہ میں اسی علاقے کا ایک کاروباری آدمی انتخابات لڑ رہا ہے، اس کے بارے میں آٹھ سو آدمیوں نے رائے دی کہ یہ اصل میں  نیک بھی ہے اور سچا بھی ہے اور ایماندار بھی ہے۔ لیکن ایک جاگیردار بھی انتخابات پہ کھڑا ہے، اس کے بارے میں چھ سو بندوں نے یہ رائے دی کہ یہ نیک، سچا اور ایماندارآدمی ہے۔ اب بہت اچھی مغربی جمہوریت ہو تو شاید ایسا نتیجہ نکل آئے۔ لیکن پھر بھی کیا چودہ سو بندے اکثریت ہیں یا ایک ہزار بندے اکثریت ہیں۔ چودہ سولوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ نیک پرہیز گار اور خوف خدا رکھنے والے  صاحب باقی دو کی نسبت نیک نہیں ہیں اور نہ ہی سچے ہیں اور نہ ہی ایماندارہیں۔ یہاں بھی جمہوری نظام معیار پہ پورا نہیں اترا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کا یہ طریقہ انتخاب  پہلی سیڑھی پہ ہی ناکام ہوگیا ہے۔

پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے اور ۲۰۱۳ کےحق رائے دہی کے اہل افراد کی تعداد تقریبا ساڑھےسات کروڑ تھی۔ جن میں سے تقریبا ساڑھے چار کروڑ افراد نے رائے زنی کی۔  یعنی اعدادو شمار کے مطابق ساٹھ فیصد لوگوں نے  ووٹ کے ذریعے انتخابات میں اپنا کردار ادا کیا، جبکہ نو گھنٹے کے دورانیے  میں یہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان میں ایسا ہوتا ہے کہ ساٹھ فیصد لوگ رائے زنی میں حصہ لیں۔ ان میں سے برسر اقتدار آنے والی جماعت ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی۔ یعنی سو افراد میں سے ساٹھ افراد نے ووٹ ڈالے اور ان ساٹھ میں سے صرف بیس افراد کی حمایت یافتہ جماعت کو حکومت سونپ دی گئی۔ جو کہ تمام ووٹرز کا صرف بیس فیصد یا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ اب تین کروڑ افراد جنہوں نے اس نظام انتخاب پہ عدم اعتماد کیا اور تین کروڑ وہ افراد جنہوں نے برسر اقتدار آنے والی جماعت پہ عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ چھ کروڑ میں ووٹ نہ دینے والے اور دوسری جماعتوں کو ووٹ دینے والے افراد شامل ہیں، وہ اکثریت ہیں یا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد اکثریت ہیں؟۔۔۔  ایک کتاب “Introduction to Political Science”  جو چار امریکی مصنفین و محققین نے لکھی۔ اس کتا ب کے مطابق صدارتی انتخاب میں بہتر فیصد لوگوں نے رائے زنی کی اور لوکل باڈیز کے انتخابات میں سنتالیس فیصد لوگوں نے رائے زنی کی۔ جبکہ سیاسی تنظیموں سے وابستہ کل لوگوں کی تعداد صرف آٹھ فیصد ہے۔ یعنی  مغربی جمہوریت کا  طریقہ انتخاب لوگوں کو تشکیل حکومت  کے کام میں ملوث کرنے میں ناکام ہے۔ مغربی جمہوریت  کا عطا کردہ نظام انتخاب ایک بے بنیاد اور بے ربط نظام انتخاب ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ اکثر لوگ کرتے ہیں۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔ جبکہ قرآن مجید، فرقان حمید میں “اکثر لوگ”  کے بارے میں اللہ تعالی فرمارہے ہیں۔

اكثر لوگ نہیں جانتے”۔ (7:187)

اكثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے”۔ (2:243)

اكثر لوگ ایمان نہیں لائے”۔ (11:17)

قرآن مجید میں اکثر،کثیر،  کثیرا، کے الفاظ ۶۳ مرتبہ سے زیادہ  انسانوں اور مختلف اقوام عالم کے بارے میں  آئے ہیں۔ قرآن مجید یہ واضح ہدایت دے رہاہے کہ اکثریت ، فاسقوں کی ہے، اکثریت نہ جاننے والوں کی ہے، اکثریت عقل نہ رکھنے والوں کی ہے، اکثریت جاہلوں کی ہے۔ اب قرآن کے فیصلے کے بعد ہم کیسے اس مغربی جمہوریت کے فلسفہ کثرت عوامی رائے کو ہی قبول کر لیں؟۔۔۔ ۔

زیادہ تر شدید نافرمان ہیں”۔ (5:59)

زیادہ ترجاہل ہیں”۔ (6:111)

زیادہ تر راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں”۔ (21:24)

زیادہ ترسوچتے نہیں”۔ (29:23)

زیادہ تر سنتے نہیں”۔ (8:23)

جو لوگ اللہ کو پسند ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

میرے تھوڑے ہی بندے شکر گزار ہیں”۔ (34:13)

اور کوئی ایمان نہیں لایا سوائے چند کے”۔ (11:40)

قرآن مجید میں  درج ذیل طریقہ سےبھی اللہ تعالی رہنمائی فرماتے  ہیں۔

۱۔       حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہتے ہیں۔ روئے زمین پہ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں انسانوں کو آگاہ کیا کہ شیطان اولاد آدم کو گمراہ کرکے چھوڑے گا۔اس لئے میں تمہیں اللہ کا بندہ بننے کی دعوت دیتاہوں۔یہ دعوت وہ ساڑھے نو سو سال دیتے رہے۔ لیکن اکثریت نے ان کی نہ سنی۔اور اتنے طویل عرصے میں گنتی کے افراد جو ایک کشتی میں سوار ہوسکے ، اللہ کے بندے بنے۔

۲۔      حضرت ہود علیہ السلام نے بھی یہی دعوت دی۔ اکثریت نے حق کو تسلیم نہ کیا۔

۳۔      حضرت صالح علیہ السلام نے بھی قوم ثمود کو دعوت دی ۔ اکثریت نے حق کو تسلیم نہ کیا۔

۴۔      حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت سن کر ان کی قوم ایسی سیخ پا ہوئی کہ ان کو آگ میں جھونکا اور پھر بھی اکثریت نے بات نہ مانی۔ اللہ تعالی کے حکم سے آپ آگ میں بھی محفوظ رہے، لیکن پھر بھی عوام نے آپ کو اللہ کا رسول نہ مانا۔

۵۔      حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے تو اجتماعی طور پر آپ کے گھر کا گھیراﺅ کرلیااور ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اس قوم میں بھی بات نہ ماننے والوں کی اکثریت تھی۔

۶۔      حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نے باطل کا ساتھ دیا۔

۷۔      اسلام کے مکی دور میں کافروں کی اکثریت تھی اورکافروں کے مظالم مسلمانوں کوتیرہ سال تک برداشت کرنا  پڑے۔

۸۔      مدینہ منورہ میں بھی یہود کی  اکثریت تھی۔ جمہوری طرز سے مدینہ منورہ میں بھی اسلامی ریاست تشکیل نہیں پا سکتی تھی۔

الغرض اکثر انبیاء اکرام کو ایسے ہی حالات سے واسطہ پڑا۔ اب جب انبیاء اکرام کی بات اکثر یت نے نہ سمجھی توکسی اور کے سمجھانے  کی کیا حیثیت ہے؟۔۔۔ انبیاء اکرام سے بہتر کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ سمجھ اسے ہی آئے گی جو تحقیق کرے گا اور اللہ سے مانگے گا۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے جو مجھ سے جائز طریقے سے جائز شے مانگے گا میں   اسے عطاکروں گا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ  حکمرانوں کو منتخب کرنے کاموجودہ طریقہ قرآن و سنت سے متصادم ہے اور غیر فطری ہے۔

مغربی جمہوریت کے نظرئیے کے مطابق، انبیاء اکرام کے خلاف اکثریت حق پہ تھی ،
لیکن خالق کائنات، اللہ تعالی قرآن مجید میں واضح فرمارہے ہیں کہ
“اکثریت جاہلوں، فاسقوں کی ہوتی ہے “

اورحقیقت وہی ہے جو رب کائنات نے فرمایا۔ قرآن مجید میں قانون مقرر کردیا گیا کہ اکثریت میں فیصلہ سازی کی قوت نہیں ہے۔ کسی بھی معاشرے میں کچھ لوگ ہی صاحب دانش ہوتے ہیں اور فیصلہ سازی کا کام کرتے ہیں۔

قرآن مجید بیان فرماتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ کریم نے حکومت عطاکی۔ انسان تو انسان،  جنات تک مطیع  رہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ نے حکومت عطا کی تو نہ صرف لوگ اللہ کی ذات سے آشنا ہوئے بلکہ قحط سالی سے بھی اللہ نے محفوظ کردیا۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺنے ہجرت فرمائی اور ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی ۔سرکش قبائل بھی نبی کریم ﷺ کی زیر اطاعت آگئے۔  جبکہ تیرہ سالہ مکی دور کے دوران کسی نے بات نہ مانی۔ لیکن ریاست مدینہ کی تشکیل کے ساتھ خطہ عرب کی اکثریت مطیع ہو گئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حکومت قائم کرنے سے فلاح انسانیت اور معاشرے  میں توازن پیدا کیا جاسکتا ہے۔  حقیقت یہ ہے، تمام اسلامی ممالک میں  موجودہ  نظام حکومت ، علماءاکرام  کی بے اعتنائی اور انتشار کی مرہون منت ہی زندہ ہے۔ اسی وجہ سے ایسے لوگ ہم پر مسلط ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو