دنیا، مسلمان اور مسلم ممالک

  دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی مسلمان ہیں اور عیسائیت کے بعد دنیا کا سب سے بڑا مانے جانے والا مذہب اسلام ہے۔ عیسائی مذیب کے ماننے والے لوگ دنیا کی کل آبادی کا  تیسرا حصہ ہیں۔ جبکہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے زیادہ ہے۔

حالیہ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق اسلام اگلے تیس سے پینتیس برس میں دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں اسلام کو قبول کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

سیکولر اور دہریہ مزاج کے لوگ  کل آبادی کا سولہ فیصد اورہندو مذہب کے ماننے والے پندرہ فیصد ہیں۔ جبکہ بدھ مت کے ماننے واے صرف سات فیصد لوگ ہیں۔

کرہ ارض پہ سمندر کے علاوہ خشکی کا رقبہ انتیس فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ جبکہ خشکی کا تقریبا بیس فیصد رقبہ مسلم اکثریتی ممالک پہ مشتمل ہے یعنی خشکی کا پانچواں حصہ مسلم اکثریتی ممالک کے زیر نگیں ہے۔

دنیا میں پچاس ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی پانچ لاکھ سے بھی کم ہے۔ جبکہ کل ایک سو بیس ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی ستر لاکھ سے بھی کم ہے اور تقریبا پچاسی ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی ایک کروڑ یا ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا مسلم ممالک کا سب سے بڑا ملک ہے اور پاکستان اسلامی ممالک کی فہرست میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جبکہ سب سے کم آبادی والا ملک، مالدیپ ہے۔ پاکستان کے بعد سب سے زیادہ مسلمان بھارت میں اور پھر بنگلہ دیش میں بستے ہیں۔ جبکہ نویں درجے میں متحدہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی پانچ کروڑ کے قریب ہے۔ چین جو دنیا کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے، دنیا کی پانچواں حصہ آبادی چین میں بستی ہے اورچین کی سوا ارب سے زیادہ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد صرف اڑھائی کروڑ کے قریب ہے۔

دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ممالک میں مسلمان آباد ہیں، جن میں سے پچاس سے زیادہ   ممالک مسلم اکثریتی ممالک کہلاتے ہیں۔ مسلم آبادی والےممالک، جن میں دنیا بھر میں مسلم آبادی کے لحاظ سے باسٹھ فیصد یعنی تقریباً ایک ارب مسلمان ایشیا میں رہائش پزیر ہیں۔ مسلم ملک انڈونیشیا میں دنیا بھر کے 12.7 فیصد، پاکستان میں دنیا بھر کے  گیارہ فیصد مسلمان آباد ہیں، بھارت میں بھی تقریبا گیارہ فیصد اور بنگلہ دیش میں کل مسلم آبادی کا دس فیصد مسلمان آباد ہیں۔تقریباً بیس فیصد مسلمان عرب ممالک میں بستے ہیں۔ مشرق وسطی میں غیر عرب ممالک میں ترکی سب سے بڑا مسلم اکثریت والا ملک ہے۔ افریقہ میں مصر اور نائجیریا میں کثیر مسلم آبادی موجود ہے۔ مسلم ممالک دنیا میں ہر براعظم میں پھیلے ہوئے ہیں۔

بہت سے غیرمسلم ممالک میں کچھ صوبے یا اضلاع مسلم اکثریتی بھی ہیں۔ پاکستان کا ہمسایہ، بھارت آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی، بھارت کی کل آبادی کا  پندرہ فیصد ہے۔ بھارت میں ریاستی سطح پرآبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں 68.31%مسلمان آباد ہیں۔ دوسری جانب آسام، مغربی بنگال اور کیرلہ میں 25%سے زیادہ مسلمان موجود ہیں۔ وہیں  15سے20 فیصد والی ریاستیں بہار اور اترپردیش ہیں تو وہ ریاستیں جن میں 10سے15فیصد مسلمان رہتے ہیں اُن میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، دہلی اور مہاراشٹر شمار کیے جاتے ہیں۔ لکش دیپ، بھارت کا مکمل طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ لکش دیپ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ستانوے فیصد ہے۔ لیکن اس علاقے کی آبادی ستر ہزار کے لگ بھگ ہے۔  مزید آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں آبادی کے تناسب سے مسلمان 8 سے 10 فیصد کے درمیان  ہیں۔

اسلام مشرق وسطی، شمالی افریقہ اورایشیا کے بعض علاقوں میں غالب اکثریت کا دین ہے۔ جبکہ چین، بلقان، مشرقی یورپ اور روس میں بھی مسلم آبادی موجود ہے۔ نیز غیرمسلم ریاستوں کے ظلم و جبر کی وجہ سے مسلم مہاجرین کی کثیر تعداد دنیا کے دیگر حصوں مثلا مغربی یورپ میں بھی آباد ہے، جہاں عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔

شیعہ مذہب کے پیروکار دنیا میں ایران، آذر بائیجان، شام / سوریہ اور بحرین ہیں۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو