خالق و مخلوق

اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں مذہب کو رکھ دیا ہے۔ ہر انسان سوچتا ہے کہ کوئی ہے جو کہ تمام طاقتوں کا حامل ہے، عظیم  ہے، خالق ہے۔ کوئی ہے جو میری حاجت روی کرسکتا ہے۔ جن و انس اور اللہ وحدہ لاشریک کے درمیان، احکامات کے پہنچانے کا ایک ہی ذریعہ انبیاء و رسل ہی رہے ہیں۔ احکامات جو اللہ تعالی کی پسند ہیں کہ روزمرہ کے معاملات میں یہ راستہ اختیار کرنا مجھے پسند ہے۔ اللہ تعالی نے انبیاء  و رسل علیھم السلام مبعوث فرمائے تاکہ انسان کو خالق کی اطاعت کا سلیقہ سکھائیں۔ کیونکہ اللہ تعالی وہ راز ہیں، جو تمام مخلوقات میں صرف انسان پہ ہی آشکار ہوئے۔ ورنہ تمام مخلوق صرف اطاعت کرتی ہے۔ فرشتے بغیر دیکھے اطاعت کرتے ہیں، سرکشی نہیں کرسکتے۔ ہر مخلوق ایک نظام کے تابع ہے۔ اللہ تعالی نے جن و انس کو تخلیق فرما کر زندگی کے ہر قدم پہ دوراستے بتا دئیے کہ ایک راستہ خالق کا ہے اور ایک راستہ اپنی پسند کا ہے۔ جن و انس بھی بغیر دیکھے اطاعت یا سرکشی کرتے ہیں، لیکن کسی مخلوق میں اتنی استعداد اور جرات اللہ تعالی نے نہیں رکھی کہ وہ خالق کے بارے میں سوچے کہ خالق کائنات کیسے ہیں اور کون ہیں؟۔۔۔ یہ شرف انسان کو اللہ کریم نے عطا کرکے باقی مخلوق سے ممتاز کردیا اور “اشرف المخلوقات” کا لقب عطا کیا۔

اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول حضرت محمدﷺ کومبعوث فرمایا اور تمام انعامات جو کہ انسان کو قیامت تک مطلوب ہوسکتے ہیں، کی عطا کی نوید حضرت محمدﷺ کے ذریعے دے دی۔ اب قیامت تک جن حالات و واقعات سے انفرادی یا اجتماعی واسطہ انسان کو پڑسکتا ہے، اس کا حل اسلام میں موجود ہے۔

تحریر : میاں قاسم
@MianQasimSehrai

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو