یہ دوا سرطان زدہ خلیوں کو بھوک سے ہلاک کردیتی ہے!

سویڈن اور جرمنی کے سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق کے بعد ایسا مرکب تیار کیا ہے جو سرطان زدہ خلیوں کو غذا ’ہضم‘ کرکے توانائی پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتا۔ نتیجتاً یہ خلیے فاقہ زدہ ہو کر ختم ہو جاتے ہیں۔

ابتدائی تجربات میں یہ مرکب چوہوں پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے اور امید ہے کہ آئندہ سال اس کی انسانی طبّی آزمائشوں کی اجازت بھی مل جائے گی۔

یہ تحقیق اسٹاک ہوم کے مشہور ’’کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ‘‘ کی سربراہی میں کی گئی جس میں کولون، جرمنی سے ’’میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار بائیالوجی آف ایجنگ‘‘ اور سویڈن کی گوٹنبرگ یونیورسٹی کے ماہرین بھی شریک تھے۔

اس تحقیق کے دوران انہوں نے کچھ ایسے حیاتی سالمات (بایو مالیکیولز) دریافت کیے جو خلیے کے ایک اہم حصے ’’مائٹوکونڈریا‘‘ کو متاثر کرتے ہیں اور اسے خلیے کےلیے توانائی پیدا کرنے سے روکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مائٹو کونڈریا کو ’’خلیے کا بجلی گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ غذا کے سالمات کو ’ہضم‘ کرکے نہ صرف توانائی پیدا کرتا ہے بلکہ جسمانی بافتوں (ٹشوز) اور اعضا کے درست طور پر کام کرنے کےلیے ضروری سالمے بھی تیار کرتا ہے۔

مزید یہ کہ مائٹوکونڈریا کا اپنا ڈی این اے ہوتا ہے جو باقی خلیے سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ اگر مائٹوکونڈریا اپنا کام کرنا بند کردے تو خلیوں میں غذا ہضم ہونے کا عمل بھی رک جائے گا اور وہ فاقہ زدہ ہو کر مرنے لگیں گے۔

ہر صحت مند خلیہ اپنی مخصوص عمر پوری کرنے کے بعد خود کو ختم کرلیتا ہے اور اس کی جگہ، وہی کام کرنے والا دوسرا خلیہ آجاتا ہے۔ لیکن سرطان (کینسر) میں مبتلا خلیے خود کو ختم نہیں کرتے بلکہ اپنی تعداد میں اضافہ کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں متاثرہ مقام پر ’’سرطان زدہ پھوڑا‘‘ (ٹیومر) وجود میں آجاتا ہے جس کا علاج تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

طبّی ماہرین کے سامنے برسوں سے یہ امکان موجود تھا کہ اگر سرطان زدہ خلیوں میں مائٹوکونڈریا کو نشانہ بنا کر کام کرنے سے روک دیا جائے تو سرطان زدہ خلیے بھی ’’فاقہ زدگی‘‘ کا شکار ہو کر مرنے لگیں گے۔ اس طرح نہ صرف سرطان کو بڑھنے سے روکا جاسکے گا بلکہ ممکنہ طور پر مکمل ختم بھی کیا جاسکے گا۔

البتہ اس امکان کو یقین بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ حائل تھی: مائٹوکونڈریا کو نشانہ بنانے والی دوائیں عموماً بہت زہریلی ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنے راستے میں آنے والے ہر خلیے پر حملہ کر دیتی ہیں چاہے وہ سرطان زدہ ہو یا نہ ہو۔ کینسر کا علاج کرنے کےلیے ادویہ (حیاتی کیمیائی سالمات) کو لازماً اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ صحت مند خلیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف اور صرف سرطان زدہ خلیوں ہی کو نشانہ بنائیں۔

جرمن اور سویڈش سائنسدانوں نے برسوں تحقیق کے بعد یہی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کچھ مخصوص بایوکیمیکلز کے ساتھ ساتھ وہ پورا نظام بھی دریافت کیا ہے جس کے تحت بطورِ خاص کینسر زدہ خلیوں میں مائٹوکونڈریا کے ڈی این اے (mtDNA) سے پروٹین بننے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے اور یوں مائٹوکونڈریا کو ناکارہ بنایا جاتا ہے۔

ان بایوکیمیکلز کے اثرات کچھ دیر بعد ارد گرد کے صحت مند خلیوں تک پہنچنا شروع ہوتے ہیں لیکن تب تک ان کی شدت میں خاصی کمی آچکی ہوتی ہے اور وہ دوسرے خلیوں کےلیے بڑی حد تک بے ضرر ہو چکے ہوتے ہیں۔

ابتدائی تجربات میں ان بایوکیمیکلز کو سرطان زدہ چوہوں پر آزمایا گیا۔ ان آزمائشوں کے دوران چوہوں میں سرطانی رسولیوں کا سائز کم ہوا جبکہ ان کی مجموعی صحت بھی بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس دوا کو جلد ہی عالمی اداروں کی جانب سے انسانی آزمائشوں کی اجازت مل جائے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو