ملک میں یوریا کے ذخائر 10 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئے

پیداوار میں بہتری کے باعث ملک میں یوریا کے ذخائر 10 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئے۔

ملک میں یوریا کی مقامی پیداوار میں اضافے سے یوریا کے ذخائر کی بڑھتی ہوئی سطح کاشت کاروں کے لیے اطمینان کا باعث بن گئی، مستقل مقامی پیداوار سے کھاد کے ذخائر 10 لاکھ ٹن سے بھی تجاوز کرگئے اور کھاد کی مقامی صنعت ربیع سیزن 2020-21ء کے لیے مقامی یوریا مارکیٹ کو بروقت کھاد فراہم کر رہی ہے۔

اعداو شمار کے مطابق نومبر 2019ء کے 62,000 ٹن کے مقابلے میں نومبر 2020ء کے دوران کھاد کی فروخت کا حجم 515000 ہزارٹن پر مشتمل رہا۔ کھاد کی فروخت میں 42 فیصد کے اس غیرمعمولی اضافے سے زرعی معیشت میں بہتری اور پیداواری لاگت میں کمی کی نشاندہی ہوتی ہے کیونکہ سال 2020ء کی ابتدا میں کھاد کی قیمتوں میں 400 روپے فی بیگ کمی کردی گئی تھی اور نومبر تک کھاد کی پیداوار گزشتہ سال 5.6 ملین ٹن کی سطح تک مستقل برقرار رہی۔

نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر کے مطابق ربیع سیزن 2020-21ء کی ابتدا میں اسٹاک میں 473000 ٹن کھاد موجود تھی جبکہ اس سیزن کے لیے 3.24 ملین ٹن کھاد کا تخمینہ ہے۔ علاوہ ازیں این ایف ڈی سی نے ربیع سیزن کے اختتام تک یوریا کے ذخائر 284000 ٹن رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

صنعتی شعبے کے اعدا و شمار کے مطابق نومبر کے اختتام تک کھاد کمپنیوں کے پاس 665000 ٹن کھاد موجود ہونے کے ساتھ ساتھ 350000 ٹن سے 370000 ٹن تک اضافی اسٹاک مارکیٹ چینل میں دستیاب ہے۔ اس لیے دسمبر میں 5لاکھ ٹن کی متوقع پیداوار کے ساتھ تقریبا ً10لاکھ ٹن کے ذخائر ربیع سیزن کی ڈیمانڈ اور ضروری اسٹاک کے لیے کافی ہوں گے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں موجود کھاد کے وافر ذخائر کی وجہ سے کھاد کی قیمتوں میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں مناسب اسٹاک کی موجودگی کی وجہ سے مستقبل قریب میں یوریا کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مقامی گیس پر چلنے والے پلانٹس جنہوں نے ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور وہ 5.9 ملین ٹن سالانہ ملکی کھاد کی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔ ان پلانٹس کو گیس کی مستقل فراہمی کی حکومتی پالیسی کے باوجود گزشتہ 3 ماہ سے آر ایل این جی پلانٹس کو 3 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو