جنوری کی شدید سردیوں میں ملک میں ایل این جی کے بڑے بحران کا خطرہ

جنوری کی شدید سردیوں میں ملک میں ایل این جی کے بڑے بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری پاکستان کیلئے امتحان بن گئی، تین کارگوز کیلئے ایمرجنسی ٹینڈرز جاری کیے لیکن کمپنیوں نےایل این جی کے دام بڑھا دئیے۔

دو کارگوز کیلئے آنے والی بولی موجودہ خام تیل برینٹ کی قیمت کے 39 اعشاریہ 62 فیصد ہے۔ ایک کمپنی نے 19.80 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی لگائی جب کہ دوسری نے 15.95ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی دی۔

ایمرجنسی ٹینڈرز 8سے 18جنوری تک مختلف تاریخوں میں ڈیلیوری کیلئے جاری ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 8 سے 18 جنوری تک تین ایل این جی کارگوز کی خریداری کیلئے جمعہ کو ایمرجنسی ٹینڈرز جاری کیے تھے اس سے قبل ان ایل این جی کارگوز کی فراہمی کیلئے ایمرجنسی ٹینڈرز 8 سے 9 جنوری 12 سے 13 جنوری اور 17 سے 18 جنوری تک کی ڈلیوری کیلئے جاری کیے گئے تھے۔

اس سے قبل ان ایل این جی کارگوز کیلئے ٹینڈرز پر کوئی بھی بولی نہیں آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق 8سے 9جنوری تک ایل این جی سپلائی کیلئے ڈی ایکس ٹی نے 15.28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ٹرائی فیگیورا نے 19.80 ڈالر فی ایم ایم بھی ٹی یو کی بولی دی ہے۔

ذرائع کے مطابق 12 سے 13 جنوری کی ایل این جی سپلائی کیلئے کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق 17 سے 18 جنوری تک ایل این جی سپلائی کیلئے ڈی ایکس ٹی نے 12.95 ڈالر اور ٹرائی فی گیورا نے 15.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی دی۔

ذرائع کے مطابق دو کارگوز کیلئے دی جانے والی بولیاں خام تیل برینٹ کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل کے 25.91 فیصد سے 39.62 فیصد تک بنتی ہیں۔

سابق حکومت کے قطر کے ساتھ کیے گئے لمبی مدت کے ایل این جی سودوں کا نرخ برینٹ کے 13.37 فیصد کے برابر ہے جو 6.68 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو بنتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو