ٹوئٹر پر رابطہ کرکے گھر بلاکر 9 لوگوں کو قتل کرنے والے کو سزائے موت

جاپان میں 9 افراد کے قتل میں ملوث ‘ٹوئٹرکلر’ کے نام سے مشہور مجرم کو سزائے موت سنادی گئی۔

جاپانی میڈیا کے مطابق 30 سالہ مجرم تاکاہیرو شیریشی پر الزام تھا کہ اس نے مختلف مسائل کے باعث خودکشی پر آمادہ 8 خواتین سمیت 9 افراد کو ٹوئٹر پر رابطہ کرکے اپنے گھر بلایا اور پھر بے دردی سے ان کا قتل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق قتل ہونے والے تمام افراد کی عمریں 15 سے 26 سال کے درمیان تھیں۔

مجرم نے 2017ء میں اگست سے لے کر اکتوبر کے دوران مقتولین سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا، یہ تمام افراد کسی نہ کسی وجہ سے خودکشی کرنے پر آمادہ تھے(جو کہ جاپان میں خودکشی کے رجحان میں اضافے کی نشاندہی ہے)۔

تحقیقات کے مطابق تاکاہیرو نے مقتولین کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مرنے میں مدد کرے گا اور بعض کو کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ خودکشی کرے گا۔

اکتوبر 2017ء کے آخر میں جب ایک 23 سالہ گمشدہ لڑکی کی تلاش میں پولیس نے مجرم کے فلیٹ کی تلاشی لی تو وہاں سے اس کی لاش برآمد ہوئی، اس کے علاوہ اس کے گھر سے کولر اور ڈبوں میں انسانی سر اور ان کے دیگر اعضاء بھی پائے گئے۔

گرفتاری کے بعد تاکاہیرو نے اعتراف جرم کرلیا لیکن عدالت میں اس کے وکلاء نے دلائل میں کہا کہ یہ سب اس نے مقتولین کی مرضی سے کیا ہے اس لیے اسے کم سے کم سزا دی جائے تاہم قاتل نے بعدازاں یہ اعتراف بھی کیا کہ اس میں مقتولین کی رضا مندی شامل نہیں تھی۔

خیال رہے کہ جاپان میں سزائے موقت کو برقرار رکھنے پر عوام کی جانب سے مسلسل دباؤ ہے اور جاپان کا شمار سزائے موت برقرار رکھنے والے چند ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

خودکشی سے جڑے قتل کے ان واقعات کے بعد ٹوئٹر کو بھی کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد ٹوئٹر نے صارفین کی جانب سے خودکشی کو فروغ دینے یا خود کو نقصان پہنچانے جیسی پوسٹس کرنے پر پابندی لگادی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو