کسی بھی عمر میں کم مدتی ہائی بلڈپریشر دماغ کو متاثر کرسکتا ہے

خواہ آپ درمیانی عمر کے ہوں یا پھر بزرگوں میں شامل ہیں، اگر کم دورانئے کا ہائی بلڈ پریشر بھی لاحق ہوجائے تو اس سے دماغی اور اکتسابی صلاحیت میں کمی کا عمل تیز تر ہوسکتا ہے.

ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بلند فشارِخون (ہائی بلڈ پریشر) سے دماغٰی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں لیکن اگرعمر کے کسی بھی حصے میں یہ عارضہ کم وقفے کے لیے لاحق ہوجائے تو اس سے سے دماغ اور اس کے افعال متاثر ہونے کا سلسلہ تیز ہوجاتا ہے۔

خواہ بلڈ پریشر کا رحجان درمیانی عمر سے شروع ہو یا پھر بڑھاپے میں حملہ آور ہو اس سے اکتسابی نقصان یکساں ہوتا ہے۔ اس بات کا انکشاف سینڈی بریٹو نے کیا ہے جو برازیل میں واقع فیڈرل میناس گریس یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق مزید بتاتی ہے کہ اگر بلڈ پریشر کو کسی طرح قابو کرلیا جائے تو اس نقصان کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص اور علاج کی ضرورت مزید واضح ہوتی ہے۔

ڈاکٹر بریٹو اور ان کے ساتھیوں نے پورے برازیل میں سات ہزار ایسے افراد کا جائزہ لیا جن کی اوسط عمر 59 سال تھی۔ یہ سروے چار برس تک جاری رہا۔ اس مطالعے میں ایک جانب تو بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا تو دیگر افراد کو توجہ ، ارتکاز، سوچنے اور منطق کے بعض ٹیسٹ سے گزارا گیا۔

سروے کے مطابق اوپر کے 121 سے 139 بلڈ پریشر اور نچلی سطح کے 81 سے 89 بلڈ پریشر کی شرح اگرچہ بہت ذیادہ نہیں ہوتی لیکن اس کیفیت میں مبتلا افراد کوئی دوا نہیں لے رہے تھے۔ اس صورتحال میں بھی درمیانی عمر اور بڑھاپے میں موجود شرکا کا یکساں دماغی اور اکتسابی نقصان دیکھا گیا۔

اس طرح معلوم ہوا کہ اگر بلڈ پریشر کچھ دیر کے لیے بھی بلند ہوجائے تو اس سے ذہنی اور دماغی صلاحیت متاثر ہونے کا عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔ ان میں سے جن افراد نے اپنے بلڈ پریشر کو قابو رکھنے کی دوا کھائی ان کے مقابلے میں کوئی دوا نہ لینے والے افراد میں دماغی انحطاط تیزدیکھا گیا۔

اس تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر ہر طرح سے بہت مضر ہے اور اسے قابو کرنے کا ہر طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو