زندہ خلیوں سے بنے ’’ریشمی پردۂ چشم‘‘ سے بینائی بحال

سائنسدانوں نے ریشم اور زندہ خلیے استعمال کرتے ہوئے ایسا پردۂ چشم (ریٹینا) تیار کرلیا ہے جس سے بینائی مکمل طور پر بحال ہوسکتی ہے۔

یہ ’’ریشمی پردۂ چشم‘‘ بطورِ خاص عمر رسیدہ اور بزرگ افراد کےلیے مفید ہے جو بڑھاپے کے ساتھ ساتھ پردۂ چشم کی خرابی اور آخرکار مکمل نابینا پن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ پردۂ چشم خراب سے خراب تر ہونے کی کیفیت کو ’’ایج ریلیٹڈ میکیولر ڈی جنریشن‘‘ (اے ایم ڈی) کہا جاتا ہے جسے درست کرنے کا فی الحال کوئی طریقہ موجود نہیں، البتہ ایسی دوائیں ضرور موجود ہیں جو ’’اے ایم ڈی‘‘ کے بڑھنے میں رکاوٹ ضرور ڈال سکتی ہیں۔

ان ہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپین کے مختلف تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی ایک وسیع ٹیم نے ایسا مصنوعی پردۂ چشم ایجاد کرلیا ہے جسے آسانی سے انسانی آنکھ کے اندر پیوند کیا جاسکتا ہے۔

اس میں پردۂ چشم سے لیے گئے خلیوں کی کئی پرتیں (تہیں) اوپر تلے لگائی گئی ہیں جنہیں ریشم میں عام پائے جانے والے پروٹین ’’فائبرائن‘‘ (fibroin) کی باریک فلموں کے درمیان کسی سینڈوچ کی طرح محفوظ کیا گیا ہے۔ حفاظت کی غرض سے اس پر ایک جیلی دار مادّے کے غلاف بھی چڑھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پردۂ چشم میں کئی طرح کے خلیات ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جن میں روشنی اور رنگوں کو محسوس کرنے والے خلیوں کے علاوہ دیگر معاون خلیے بھی شامل ہیں۔

یہ مصنوعی پردۂ چشم نہ صرف خود کام کرتا ہے بلکہ آنکھ میں متعلقہ مقام پر پیوند ہونے کے بعد وہاں موجود قدرتی پردۂ چشم کو بحال ہونے میں مدد بھی دیتا ہے۔

اب تک اس زندہ اور ریشمی پردۂ چشم کو تجرباتی طور پر پیٹری ڈش میں آزمایا گیا ہے۔ اگلے مرحلے پر اس کی جانوروں پر آزمائشیں ہوں گی، جن میں کامیابی کے بعد اسے انسانوں پر آزمانا شروع کیا جائے گا۔

تحقیقی مجلّے ’’دی جرنل آف نیورل انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں اس حوالے سے مکمل مقالہ شائع ہوچکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو