مسلم شہریوں کو نو فلائی لسٹ پر ڈالنے والوں پر مقدمے کی اجازت

امریکی سپریم کورٹ نے 3 مسلم شہریوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقات میں عدم تعاون پر مسلم شہریوں کو نو فلائی لسٹ پر ڈالنے کے خلاف فیڈرل ایجنٹس پر مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق یہ قانون نافذ کرنے والوں کی بے ضابطگیوں کے خلاف نایاب قانونی فیصلہ ہے۔

تین مسلم امریکی شہریوں نے سپریم کورٹ میں یہ کیس دائر کیا تھا کہ ایف بی آئی ایجنٹوں نے اُن پر ساتھی مسلمانوں کے خلاف مخبری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ان کے انکار کرنے پر ایف بی آئی ایجنٹوں نے اُنہیں نو فلائی لسٹ پر ڈال دیا۔

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ امریکی شہریوں کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے فیڈرل ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔

کیس جیتنے والے مدعین میں سے ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے ایک علیحدہ معاملے میں یہ فیصلہ بھی سنایا کہ مسلح افواج میں جنسی زیادتی کا کیس دائر کرنے کی مدت کی کوئی حد نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو