پاکستان سمیت دنیا بھر میں جیمینیڈ شہابیوں کا نظارہ

یہ نظارہ ہر سال ماہ دسمبر کے 13 سے 14 تاریخ میں اپنے مقامی وقت کے تحت رونما ہوتا ہے. جس میں ایک منٹ میں 100 سے 120 شہابئے ایک روشن لکیر چھوڑتے ہوئے زمین کی جانب لپکتے ہیں جنہیں ہم غیرسائنسی طور پر عرفِ عام میں تارہ ٹوٹنا کہتے ہیں۔

ہمارے نظامِ شمسی میں ایک طویل بیضوی مدار میں فیتھون 3200 نامی سیارچہ (اسٹرائیڈ) چکر کاٹ رہا ہے۔ ہر سال دسمبر میں یہ زمینی مدار کو کاٹتے ہوئے گزرتا ہے۔ اگرچہ ماہرین کی اکثریت اسے شہابیہ ہی مانتی ہے لیکن بعض ماہرین اسے دمدار ستارے اور شہابئے کے درمیان کی کوئی شے قرار دیا ہے۔

شہابی بارش

2020ء میں فیتھون 3200 زمین سے ایک کروڑ کلومیٹر کی دوری سے گزرا اور گزرتے ہوئے اس کے کئی چھوٹے بڑے ذرات زمینی ثقلی قوت سے ہماری فضا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہ لاتعداد ذرات اپنی زبردست رفتار اور زمینی رگڑ سے بھڑک اٹھتے ہیں اور تاریک رات میں روشنی کی ایک لکیر دکھائی دیتی ہے۔ اس عمل کو شہابی بارش کہا جاتا ہے۔

بڑے شہروں میں روشنی کی وجہ سے آسمان ’ضیائی آلودگی‘ (لائٹ پلیوشن) کا شکار ہوجاتا ہے اور اسی بنا پر کسی دور دراز اور تاریک مقام پر جیمنِڈ شہابیوں کی برسات دیکھنا ایک پرلطف تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود شہر میں بڑے شہابیوں کے نظارے کئے جاسکتے ہیں۔

13 اور 14 دسمبر کی درمیانی رات پاکستان میں بھی یہ نظارہ دیکھا جاسکتا ہے. اس سے قبل دنیا بھر میں شوقیہ ماہرینِ فلکیات اور ستارہ بینی کے شوقین نے یہ نظارہ دیکھتے ہیں۔ اس ضمن میں اسٹار پارٹی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد کسی تاریک مقام پر بیٹھ کر جیمنڈ شہابی بوچھاڑ کا نظارہ کرتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو