ویکسین کے بعد کورونا پر قابو پانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟

ماضی کے تجربات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ویکسین کے ذریعے بیماری پر فوراً قابو نہیں پایا جا سکتا اور ویکسین بیماری کے خلاف اقدامات کا صرف ایک حصہ ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ میں خناق کی ویکسین 1942ء میں سامنے آئی جبکہ کالی کھانسی کی 1957ء میں اور خسرہ کی ویکسین 1968ء سے مریضوں کو دینا شروع کی گئی۔

ویکسین سامنے آنے کے 77 سال بعد خناق کے 2019ء میں 10 کیسز سامنے آئے، کالی کھانسی کے 2019ء میں 3994 کیسز جبکہ خسرے کے برطانیہ میں 2422 کیسز رپورٹ ہوئے یعنی ان بیماریوں کے خلاف کامیابی دہائیوں کے بعد حاصل ہوئی۔

ایسا کیوں ہے ؟

یہ جاننے کے لیے ویکیسین کے کام کرنے کا طریقہ کار جاننا ہوگا۔

ویکسین ہمارے مدافعتی نظام کو کسی بھی بیماری کے جراثیم کو پہچاننے اور لڑنے کی صلاحیت دیتی ہے جس سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جراثیم کے حملہ آور ہونے کی صورت میں انسان شدید بیمار نہیں ہوتے۔

دوسرا اس بیماری سے آپ کو تحفظ ملتا ہے اور متعدی مرض ہونے کی صورت میں جراثیم کے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے لیکن جراثیم کی منتقلی کو روکنے کے لیے تھرڈ امیونٹی حاصل کرنا ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تھرڈ امیونٹی یا اجتماعی قوت مدافعت حاصل کرنے کے لیے آبادی کے 60 سے 70 فیصد حصے کا قوت مدافعت حاصل کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق کوئی بھی ویکسین 100 فیصد مؤثر نہیں ہوتی، فائزر اور موڈرنا نے اپنے ویکسین کے 90 فیصد سے زائد مؤثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین ملنے کے بعد بھی ہر 10 میں سے ایک فرد کورونا وائرس سے لڑنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پائے گا۔

یعنی دنیا بھر میں 100 فیصد لوگوں کو ویکسین دینے کے بعد بھی آبادی کا ایک بڑا حصہ کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات کا سامنا کرے گا جن میں وہ افراد بھی ہو سکتے ہیں جنہیں اس وائرس سے اپنی عمر اور بیماریوں کے باعث زیادہ خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ طبی وجوہات کے باعث بھی کچھ افراد کو ویکسین نہیں دی جائے گی۔

ایسے میں بڑے پیمانے پر ویکسین پروگرام کے ذریعے بالواسطہ طور پر ایسے افراد کو کورونا سے بچایا جا سکتا ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اپریل 2020ء تک سب سے پہلے ہائی رسک گروپ میں شامل افراد کو مرحلہ وار ویکسین دی جائے گی تاکہ اور اسپتالوں پر بڑھتے دباؤ کو روکا جا سکے جبکہ جن افراد کو ویکسین نہیں دی جائے گی وہ کورونا کی منتقلی کا سبب بنتے رہیں گے۔

چونکہ کورونا ایک عالمی وبا ہے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے 7 ارب سے زائد افراد کو ویکسین فراہم کرنا ہو گی جو آسان کام نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت کا مضبوط انفرااسڑاکچر اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام کا تجربہ رکھنے والے برطانیہ جیسے ممالک میں بھی وائرس کی ٹرانسمیشن کو روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

اس کے علاوہ فائزر اور موڈرنا جیسے ویکسین کی نقل و حمل بھی آسان نہیں جس کے لیے باقاعدہ کولڈ چین سسٹم کی ضرورت پڑے گی، اس کے ساتھ ساتھ ویکسین کی افادیت کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچانا پڑے گا۔

برٹش اکیڈمی اور رائل سوسائٹی کے حال ہی میں کروائے گئے سروے کے مطابق برطانیہ میں 36 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک یا تو ویکسین لگانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے یا ان کے اس بارے میں رضامند ہونے کے امکانات بہت کم ہیں جو اجتماعی قوت مدافعت حاصل کرنے کی راہ میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

ایسے میں امید افزا بات یہ ہے کہ تمام چیلنجز کے باوجود مختصر مدت میں ویکسین کے آنے سے ہائی رسک گروپ میں آنے والے افراد کو بچانے میں مدر ملے گی لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ویکسین کو دنیا کی بڑی آبادی تک پہنچنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

ماہرین کے اندازوں کے مطابق زندگی کو معمول پر آنے میں مزید دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس دوران ماسک کا استعمال، سماجی دوری اور دیگر اقدامات سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش جاری رکھنا ہو گی۔

ماہرین اس بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں کہ موجودہ وبائی صورتحال سے تو ہمیں چھٹکارا مل ہی جائے گا لیکن کورونا وائرس ہمارے درمیان موجود رہے گا اور دیگر ویکسین کی طرح ہمیں اس کی ویکسین بھی لگوانا پڑے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو