’’سنکیانگ کے شہریوں کو مذہبی عقائد کی آزادی حاصل ہے،‘‘ سنکیانگ خود اختیار حکومت

چین مخالف مغربی پروپیگنڈے، بالخصوص سنکیانگ کی صورتِ حال سے متعلق افواہوں کے جواب میں سنکیانگ اویغور خود اختیار علاقے میں دفترِ اطلاعات کے ترجمان نے 9 دسمبر کے روز اپنی پریس کانفرنس میں ایک جرمن نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی جمہوریہ چین کے آئین کے تحت وہاں رہنے والے ہر فرد کو مذہبی عقیدے کی مکمل آزادی ہے جبکہ ’’سنکیانگ، شہریوں کے مذہبی عقائد کی آزادی کے حق کی مکمل حفاظت کرتا ہے،‘‘

ان کا کہنا تھا کہ سنکیانگ اویغور خود اختیار علاقے کی حکومت نے مذہبی امور کے حوالے سے مقامی قواعد و ضوابط بھی مرتب کیے ہوئے ہیں جو سب شہریوں کے مذہبی عقیدے کی آزادی کے حق کی ضمانت کےلیے ایک قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

سنکیانگ میں 103 اسلامی ایسوسی ایشنز ہیں جو اندرونی مذہبی امور کو مربوط اور حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ مذہبی گروپوں اور عام شہری مذہبی مقامات پر اور اپنے گھروں میں عبادات، روزہ اور مذہبی تہواروں سے متعلق مذہبی سرگرمیوں کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی تنظیم یا فرد مداخلت نہیں کرسکتا۔

ترجمان نے پوپ فرانسس کی کتاب میں اویغور شہریوں سے روا رکھنے جانے والے سلوک کے تناظر میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات بے بنیاد ہے کہ اویغور شہریوں پر ظلم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے سنکیانگ اویغور خود اختیار علاقے میں لوگ ترقی کے ثمرات سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہورہے ہیں اور پراطمینان زندگی گزار رہے ہیں۔

شہر ہوتان کی مذہبی شخصیت ولی عیشان نے کہا کہ سنکیانگ میں مساجد کو شہید کرنے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مساجد بہت چھوٹی تھیں اور پرانی ہوچکی تھیں۔ سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمانوں نے درخواست کی کہ مساجد کو بھی ترقی دی جائے۔ ان کی آراء کی روشنی میں متعلقہ اداروں نے متعدد مساجد کی تزئین و آرائش کی اور جہاں ضرور ی تھا، مساجد کی تعمیر نو بھی کی گئی جس پر مقامی مسلمانوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو