تیز رفتار پی سی آر ٹیسٹنگ کی مکمل تجربہ گاہ… آپ کی انگلی سے بھی چھوٹی!

برطانوی سائنسدانوں نے پی سی آر ٹیسٹنگ کے ذریعے مختلف بیماریوں کی تشخیص کےلیے چھوٹی سی چپ پر ایسی تجربہ گاہ تیار کرلی ہے جو صرف ایک سینٹی میٹر لمبی اور ایک سینٹی میٹر چوڑی ہے اور کسی بڑی تشخیصی تجربہ گاہ جتنی کارکردگی کی حامل ہے جبکہ اس سے تشخیصی ٹیسٹ کا نتیجہ بھی صرف چند منٹ میں حاصل ہوجاتا ہے۔

یہ ننھی سی تشخیصی چپ (ڈائگنوسٹک چپ) جسے امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے ایجاد کیا ہے، بیماریوں اور تکالیف کی وجہ بننے والے کئی طرح کے جرثوموں اور وائرسوں کو شناخت کرسکتی ہے، یعنی اسے کورونا وائرس کی تشخیص میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ تشخیصی چپ ایجاد کرنے والی ٹیم کے ایک سینئر سائنسداں، فیرات گوئدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی سی آر کا طریقہ ان گنت بیماریوں کی تشخیص کےلیے معیاری ترین قرار دیا جاتا ہے لیکن اوّل تو کسی بھی پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ خاصے وقت میں آتا ہے جبکہ پی سی آر ٹیسٹنگ کی مروجہ تجربہ گاہیں بھی خاصی بڑی ہوتی ہیں جنہیں خصوصی آلات اور سہولیات سے لیس کرنا بھی لازمی ہوتا ہے۔

نتیجتاً دور دراز، پسماندہ اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم غریب علاقوں تک یہ سہولت پہنچانا بہت مہنگا اور مشکل کام ہوتا ہے جبکہ شہری اور ترقی یافتہ علاقوں میں بھی لوگوں کو ایک پی سی آر ٹیسٹ کروانے کے بعد عموماً تین سے چار دن، اور بعض اوقات ایک ہفتے تک بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

سلیکان پر کسی مائیکروچپ کی طرح نقش کی گئی اس چھوٹی سی تشخیصی تجربہ گاہ نے وقت اور لاگت، دونوں کے مسائل ایک ساتھ حل کردیئے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ڈسپوزیبل بھی ہے یعنی ایک بار استعمال کے بعد اسے تلف کیا جاسکتا ہے۔

اس چپ کی لاگت ہر ممکن حد تک کم رکھنے کےلیے اس کی تیاری میں وہی عملی طریقے اور آلات استعمال کیے گئے ہیں جو موجودہ مائیکروچپس کی تیاری میں صنعتی طور پر استعمال ہورہے ہیں۔

فی الحال اس ایجاد کا کوئی نام تو نہیں رکھا گیا تاہم اصل میں یہ ’’لیب آن چپ‘‘ کہلانے والی جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے جس پر گزشتہ بیس سال سے بہت کام ہورہا ہے۔

اپنی موجودہ حالت میں یہ پروٹوٹائپ چپ درجہ حرارت معلوم کرنے والے سینسرز، ایک عدد ہیٹر اور ایک ڈی این اے سینسر پر مشتمل ہے۔ اب تک اسے جانوروں کو بیمار ڈالنے والے بعض جرثوموں اور ناول کورونا وائرس کا جینیاتی مواد شناخت کرنے میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔

مستقبل قریب میں اس چپ کی ترقی یافتہ شکل دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں کئی امراض کی تیز رفتار، درست اور کم خرچ تشخیص کرتے ہوئے لاکھوں انسانی جانیں بچانے کا فریضہ بھی انجام دے سکیں گی۔

نوٹ: اس پروٹوٹائپ کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو