ہائیڈروجیل سے سبز موتیا کے علاج میں اہم پیش رفت

پانی بھرے ہائیڈروجیل سے اب سبزموتیا یعنی گلوکوما جیسے پیچیدہ مرض کا علاج ممکن ہوسکے گا، ایک خاص قسم کے ہائیڈروجیل سے اس مشکل مرض کے کسی آپریشن کے بغیر علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں جس میں آنکھوں میں قطرے ڈالنے اور دوا کھانے سے بھی نجات مل سکتی ہے۔

جارجیا ٹیک اور ایموری یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بہت گاڑھے ہائیڈروجیل کا ایک انجکشن تیار کیا ہے جس میں پانی جذب کرنے والا پالیمر موجود ہے۔ سبز موتیا کے علاج میں سب سے پہلے آنکھ کے اندر دباؤ کو کم کرنا پڑتا ہے اور بہت سنگین صورتحال میں ناقابلِ تلافی اندھا پن لاحق ہوسکتا ہے۔

بسا اوقات آنکھ کے اندر دباؤ (پریشر) کم کرنے کے لیے آپریشن کرنا پڑتا ہے جو کئی بار ناکام بھی ہوجاتا ہے۔ اب اس ٹیکنالوجی میں ایک سوئی سے آنکھ کے نیچے ایک مقام پر پالیمر داخل کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیمر جس مقام پر ڈالا جاتا ہے اسے ’سپر کوروئڈل اسپیس‘ (ایس سی ایس) کہتے ہیں۔

پالیمر داخل کرنے سے ایس سی ایس میں ایک راستہ کھلتا ہے اور وہاں سے آنکھ میں جمع ہونے والا مائع باہرنکل آتا ہے۔ اب نئی ٹیکنالوجی میں صرف ایک ملی میٹر لمبی سوئی میں ہائیڈروجیل کا ایک باریک قطرہ (50 مائیکرو لیٹر) ڈالنے سے آنکھ کے اندر کا باریک راستہ کھل جاتا ہے۔

اسی عمل سے آنکھ کے پیچھے کا ایک اور بند مرکزی راستہ بھی کھولا جاسکتا ہے جس سے اندر جمع ہونے والے مائعات باہر نکلتے ہیں اور آنکھ کے اندر بننے والا دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ ایک انجکشن سے چار سے پانچ ماہ تک آنکھ کی جھری کھل جاتی ہے۔ اس طرح سال میں دو مرتبہ انجکشن سے مریض کو آرام آجاتا ہے۔

فی الحال یہ تجربات بعض جانوروں پر کیے گئے ہیں جن کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو