کورونا ٹیسٹ کیوں کروانا چاہیے؟

کورونا کی جس دوسری لہر کے بارے میں گزشتہ کئی مہینوں سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اسے ہم سب اب دیکھ رہے ہیں۔ روزانہ سامنے آنے والے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں مزید مریضوں کی گنجائش بھی باقی نہیں ہے۔ موسمی حالات کے پیش نظر کورونا کی موجودہ لہر کو زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے جس میں مرض کے پھیلاؤ کی شرح کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

کورونا کی عام علامات سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور بخارسے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ اس کی تشخیص کے لیے مختلف قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ معتبر اور زیادہ کیے جانے والا ٹیسٹ PCRٹیسٹ ہے جس میں کورونا کے مشتبہ مریض کے ناک یا حلق کے ذریعے نمونہ لیا جاتا ہے اور وائرس کی موجودگی یا غیر موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے۔

دنیا بھر اور پاکستان میں سب سے زیادہ یہی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے تاہم نتائج اور حساسیت کے اعتبار سے PCR ٹیسٹ کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی زیادہ قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔

عام مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کسی شخص میں کورونا کی علامتیں موجود ہونے کے باوجود اگر اسے PCR ٹیسٹ کروانے کا کہا جائے تو اکثر و بیشتر مریض یہ ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیتے ہیں یا پس و پیش سے کام لیتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔علامتیں معمولی ہونا، 2۔صحت میں بہتری، 3۔پابندیوں کا خوف، 4۔مالی استطاعت نہ ہونا، 5۔ کورونا کے وجود سے انکار

اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹیسٹ کی مجموعی تعداد کم ہونے کے باعث مریضوں میں اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی اور اس کا پھیلاؤ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹیسٹ کروانا ضروری کیوں ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ کورونا مہلک نہ ہونے کے باوجود بہت تیزی کے ساتھ پھیلنے والی بیماری ہے جو متاثرہ شخص کی کھانسی اور سانس کے ذریعے دوسروں میں پھیلتی ہے۔ کئی لوگ جن میں قوت مدافعت مضبوط ہونے کے باعث اس کی علامات ظاہر نہ بھی ہوں تو وہ بھی اس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس بناء پرکورونا ٹیسٹ کروانے کی اہمیت زیادہ ہے تاکہ اگر کسی فرد میں یہ وائرس موجود ہے تو وہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس کے مزید پھیلنے سے روک سکتا ہے۔

یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹیسٹ کروانے کا سب سے اہم فائدہ مریض کو بھی ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اُس کے اہل خانہ یا اس کے ارد گرد موجود لوگوں کو ہوتا ہے کیونکہ اگر کسی میں اس مرض کی تشخیص ہو جائے تو وہ خود کو ایک خاص مدت تک کے لیے دوسروں سے علیحدہ کر لیتا ہے اور اس میں موجود وائرس اس کے اہل خانہ یا آس پاس کے لوگوں کو متاثر نہیں کرتا۔ اس لیے ایسے تمام لوگ جن میں کورونا کی علامات پائی جائیں انہیں فوراً PCR ٹیسٹ کروا لینا چاہیے۔

اس وقت یہ ٹیسٹ سرکاری و غیر سرکاری دونوں طرح کی لیبارٹریز میں کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اور حکومت کی مختص کردہ لیبارٹریز بشمول کئی رفاعی اداروں کے زیر انتظام لیبارٹریز میں یہ ٹیسٹ بالکل مفت کیا جاتا ہے۔ بہت سے لیبارٹریز ایسی بھی ہیں جو گھر پر ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

اینٹی باڈی ٹیسٹ کو کورونا کی تشخیص کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ:

1۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ بیماری کے ابتدائی دس سے پندرہ دن کے اندر مثبت نہیں آتا، چنانچہ اس عرصہ میں اگر کورونا کا مریض بھی یہ ٹیسٹ کروائے تو اس میں وائرس منفی ہوتا ہے۔

2۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ جسم میں قوت مدافعت ظاہر کرتا ہے، infectivityنہیں بتاتا۔ جبکہ کورونا کا یہی زاویہ اہم ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔

3۔ بہت سے کورونا مریضوں میں اینٹی باڈیز نہیں بنتی یا ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

اس لیے کورونا کی تشخیص کے لیے PCR ٹیسٹ ضروری ہے اور وہی کروانا چاہیے۔ البتہ یاد رہے کہ PCR ٹیسٹ میں بھی بیس سے تیس فیصد مریضوں میں کورونا منفی بھی آسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر مریض میں علامتیں مشتبہ ہوں تو بہت سے ڈاکٹرز احتیاط کی بنا پر آئیسولیشن کا مشورہ دیتے ہیں جسے ماننا چاہیے۔

آج کل چونکہ سردی کے باعث نزلہ زکام اور کھانسی وغیرہ زیادہ عام ہو گئی ہیں اور یہ وہ علامات ہیں جو کورونا سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ اس بناء پر کورونا کا ٹیسٹ کروالینا زیادہ ضروری ہے تاکہ ہر دو صورتوں میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں اور اس مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

(پروفیسر سہیل اختر، انڈس ہسپتال کراچی میں بطور ماہر امراضِ سینہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں۔)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو