کووڈ ویکسین پر قوم پرستی؛ اقوام متحدہ نے خبردار کردیا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ ویکسین پر قوم پرستی عروج پر پہنچ چکی ہے جس سے غریب ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کووڈ ویکسین سے متعلق کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین پر قوم پرستی اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے جس سے خدشہ ہے کہ امیر ممالک کے ایسا کرنے کرنے سے غریب ممالک تک یہ ویکسینیشن نہیں پہنچ پائے گی۔

انتونیوگوتریس نے کہا کہ کورونا کی ویکسین کی رسائی پوری دنیا تک ہونی چاہیئے، یہ کسی خاص ممالک کے لیے نہیں بلکہ عالمی عوام کی بھلائی کے لیے ہے، بالخصوص افریقہ کے لیے جہاں اس کی سب سے زیادہ اس ویکسین کی ضرورت ہے۔

کوویسک‘ پروگرام کے پیش نظریواین سیکریٹری جنرل نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے اپیل کی کہ وہ اگلے 2 ماہ میں 4.5 بلین ڈالر فراہم کرے جس سے دنیا کے غریب ترین لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین خریدنے اور فراہم کرنے میں مدد ملے۔

ویکسین معاہدہ ’کوویسک‘

ویکسین معاہدہ کا نام ’کوویسک‘ ہے جس کی مدد سے ویکسین کی 70 کروڑ خوراکیں 92 ترقی پذیر ممالک میں تقسیم جائیں گی۔

یو این سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ اس ویکسین سے حقیقی امید ہے کہ صحت عامہ کے دیگر اقدامات کے ساتھ ویکسین وبائی بیماریوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگی. جس کی رسائی سب تک ہونی چاہیئے۔

پیپلز ویکسین الائنس کا بھی امیر ممالک پر کووڈ ویکسینز کو ذخیرہ کرنے کا الزام

دوسری جانب ایمنیسٹی انٹرنیشنل، آکسفیم، اور گلوبل جسٹس ناؤ پرمشتمل نیٹ ورک ’پیپلز ویکسین الائنس‘ نے دنیا کے امیر ترین ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کووڈ -19 کی ویکسینز ذخیرہ کررہے ہیں جس کے باعث غریب ممالک ایک لمبے عرصے تک کورونا ویکسین سے مستفید نہیں ہوسکیں گے اور70 ترقی پذیر ممالک اپنی آبادی میں ہر 10 میں سے ایک شخص کو ہی ویکسین لگا پائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو