الرجی کا شکار افراد کو کورونا ویکسین لگانے سے روک دیا گیا

برطانیہ میں محکمہ صحت کے حکام نے الرجی کا شکار افراد کو کورونا ویکسین لگانے سے روک دیا ہے۔

برطانوی میڈیاکے مطابق یہ ہدایت برطانیہ میں دواؤں اور طبی آلات کے معیار پر نظر رکھنے والے ادارے ‘میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹ ریگولیٹری ایجنسی’ نے جاری کی ہے۔

برطانوی محکمہ صحت کی ریگولیٹری ایجنسی نےکہا ہےکہ ایسے افراد جنہیں کسی قسم کی غذا، دوا یا ویکسین سے الرجی ہوتی ہے وہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین نہیں لگوائیں۔

حکام کی جانب سے یہ ہدایات گزشتہ روز ویکسین لگوانے والوں میں سے دو افراد پر الرجک ری ایکشن آنے کے بعد جاری کی گئی ہیں، دونوں افراد کا تعلق برطانوی محکمہ صحت سے ہے اور دونوں کے متعلق بتایا گیا ہے انہیں الرجی کی شکایت تھی۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں امریکا کی فائزر اور جرمن دواساز ادارے بائیو این ٹیک کی مشترکہ طور پر تیار کی گئی ویکسین گذشتہ روز سے ہی لگوانا شروع کی گئی ہے اور اب تک کئی ہزار افراد کو یہ ویکسین دی جاچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیارکردہ ویکسین کی 20 ہزار سے زیادہ افراد پر آزمائش کی گئی تھی تاہم کسی میں ایسی شکایت نہیں دیکھی گئی لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آزمائشی مرحلے سے گزرنے والے ان ہزاروں رضاکاروں میں الرجی کے شکار افراد کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن پروگرام کے مانیٹرنگ سسٹم کی بہتری کی وجہ سے الرجک ری ایکشن کے ان دو وقعات کا جلد ہی پتہ چل گیا اس لیے احتیاطی مشورے جاری کردیے گئے ہیں۔

واضح رہےکہ برطانیہ اس ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا دنیا کا پہلا ملک تھا اورگذشتہ روز پہلی ویکسین شمالی آئرلینڈ کی 90 سالہ خاتون مارگریٹ کینان کو لگائی گئی تھی۔

دونوں دوا ساز اداروں کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے،انہوں نے دعوٰی کیا تھا کہ کورونا ویکسین کسی بھی نقصان کے بغیر 95 فیصد مؤثر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو