پانچ منٹ میں کووڈ 19 کا پتا لگانے والا کاغذی ٹیسٹ

اب تک کورونا وبا کی شناخت کے لیے کئی ٹیسٹ وضع کئے گئے. اس ضمن میں کاغذ کے ٹکڑے پر مبنی ایک کٹ بنائی گئ ہے جو صرف پانچ منٹ میں کورونا وائرس کی شناخت کرسکتی ہے۔

یونیورسٹٰی آف الینوائے میں واقع گرینگر کالج سے وابستہ ماہا الفیف اور ان کے ساتھیوں نے کاغذی الیکٹروکیمیکل ٹیسٹ بنایا ہے جو انتہائی حساس ہے۔ یہ ٹیسٹ صرف چند منٹوں میں کووڈ 19 مرض کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کا سراغ لگالیتا ہے۔ اس اہم ایجاد کی تفصیلات اے سی ایس نینو میں شائع ہوئی ہیں۔

اس وقت کورونا وائرس کے دو اہم ٹیسٹ دستیاب ہیں جن میں ایک ریوس ٹرانسکرپٹیس ریئل ٹائم پولیمریز چین ری ایکشن ( آر ٹی پی سی آر) ہے اور دوسرا ٹیسٹ اینٹی باڈیز پر بحث کرتا ہے۔ ان دونوں کے اپنے فوائد اور خامیاں ہیں یعنی پہلے ٹٰیسٹ میں بہت وقت لگتا ہے اور دوسرے ٹیسٹ میں مرض پرانا ہوتو اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں۔

تاہم ماہا کی ٹیم نے گرافین کی بنیاد پر یہ ٹیسٹ بنایا ہے جس میں الیکٹروکیمیکل بایوسینسر بہت حساس انداز میں کام کرتا ہے اور بجلی کے ہلکے سگنل سے سارس کوو ٹو نامی وائرس (کورونا وائرس کا تکنیکی نام) کا جینیاتی مواد پڑھتا ہے۔ اس بایو سینسر میں برقی سرگرمی سے وائرس کا آراین اے نوٹ کیا جاتا ہے۔

کاغذی ٹیسٹ بنانے کے لیے پہلے فلٹرپیپر پر گرافین کی نینوپلیٹیں لگائی گئی ہیں جو ایک انتہائی باریک موصل (کنڈکٹر) فلم میں ڈھل جاتی ہیں۔ اب اگلے مرحلے میں گرافین پر سونے کے الیکٹروڈ لگائے جاتے ہیں جو گرافین کی پرت کو چھوتے ہیں۔ اس طرح جینیاتی مادے کے برقی سگنل کو پڑھنے والا حساس سینسر وجود میں آیا۔

تجربہ گاہ میں اس کی افادیت ثابت ہوئی ہے اور اگلے مرحلے میں اس کے نتائج وائی فائی اور ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون پر حاصل کئے جاسکیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو