پاکستان نے یورپی کمیشن میں باسمتی چاول پر بھارتی جھوٹ کا جواب داخل کردیا

پاکستان نے باسمتی چاول سے متعلق بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے یورپی کمیشن میں اپنا جواب داخل کردیا۔

چند ماہ قبل بھارت نے یورپی کمیشن میں پاکستان دشمنی پر مبنی درخواست دائر کی تھی تاکہ تاکہ پاکستان کے باسمتی چاول کی یورپی یونین میں فروخت بند کرکے ایک طرف خود مالی فوائد اٹھائے جائیں اور دوسری طرف پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا جائے۔ تاہم پاکستان نے اس جھوٹ اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنا موثر جواب یورپی کمیشن میں جمع کرادیا ہے۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا ہے کہ پاکستان نے یورپین کمیشن میں یورپی یونین کو باسمتی چاول کی برآمد سے معتلق درخواست جمع کرادی ہے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے جواب میں یہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ باسمتی چاول کی برآمد کا حق پاکستان کو حاصل ہے۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے مزید کہا کہ ہم چاول کے برآمد کنندگان (رائس ایکسپورٹرز) کو یہ یقین دہانی کراتے ہیں ہم مکمل طور اپنے کیس کا دفاع کریں گے۔

وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ بھارت کی بھول ہے کہ پاکستان اسے باسمتی چاول کے ملکیتی حقوق لینے دے گا، اس کے برعکس معاملے کا بھر پور دفاع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بھی یورپی یونین کو اپنے چاول باسمتی کے نام سے برآمد کررہا ہے جب کہ بھارتی ملکیتی مؤقف پر مختصر اختلافی درخواست کے بعد پاکستان کو تفصیلی جواب کے لیے مزید 2 ماہ مل جائیں گے۔

معاملے کاپس منظر

خیال رہے کہ یورپی یونین میں بھارت نے درخواست جمع کرائی ہے کہ باسمتی چاول اس کی جغرافیائی نشانی ہے اور یہ بھارت کی پیداوار ہے جب کہ یورپی ریگولیشن 2006کے مطابق باسمتی چاول اس وقت تک پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی پیداوار کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتا ہے اور اپنی بہترین خوشبو اور ذائقے کی بدولت اسے بھارت کے باسمتی پر فوقیت حاصل ہے۔

پاکستان ہر سال5 سے 7 لاکھ ٹن باسمتی چاول دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے اور بڑی تعداد میں یہ یورپی ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو