51 نمازیوں کو شہید کرنے والا حملہ آور حملے سے قبل بھارت گیا، رپورٹ

2019ء میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر حملہ کرکے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے حملہ آور سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ حملے سے قبل بھارت بھی گیا تھا۔

حملے کے تقریباً 18 ماہ بعد مکمل ہونے والی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے سے قبل 30 سالہ آسٹریلوی نژاد حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے دنیا بھر میں سفر کیا اور ان ممالک میں سے ایک بھارت بھی ہے جہاں اس نے سب سے زیادہ وقت گزارا۔

792 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق اسکول چھوڑنے کے بعد ٹیرنٹ نے مقامی جِم میں ٹرینر کی حیثیت سے نوکری کی تاہم 2012ء میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس نے یہ نوکری چھوڑ دی اور پھر کبھی کوئی نوکری نہیں کی۔

والد سے وراثت میں ملنے والی جائیداد سے اس نے کچھ سرمایہ کاری کی اور اسی سے منافع حاصل کرکے گزر بسر کیا اور دنیا بھر کی سیر کی۔

رپورٹ کے مطابق ٹیرنٹ نے سب سے زیادہ عرصہ بھارت میں گزارا اور وہاں نومبر 2015ء سے فروری 2016ء تک رہا۔ تاہم یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ اس دوران بھارت میں کیا کرتا رہا۔

رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کے دنوں میں نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی اداروں کی تمام توجہ مسلمانوں سے خطرات پر مرکوز تھی جبکہ پولیس اسلحہ لائسنس کی بہتر نگرانی میں بھی ناکام رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خامیوں کے باوجود حملہ حکومتی ایجنسیوں کی ناکامی نہیں اور اس حملے کو روکنا ممکن نہیں تھا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ یہ دو چیزیں ناکامی تھی جس پر وہ معافی چاہتی ہیں۔ انہوں نے نئی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ادارہ بنانے کی سفارش بھی قبول کرلی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو