بھارت میں پُراسرار بیماری

بھارت میں پُراسرار بیماری سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جب کہ 400 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جن میں 200 بچے بھی شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں مرگی کے دورے جیسی کیفیات اور الٹیوں کے بعد بے ہوش ہوجانے والے 400 مریضوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جن میں 200 سے زائد بچے شامل ہیں۔

اسپتال میں 400 مریضوں میں سے ایک نے دوران علاج دم توڑ دیا جب کہ 150 سے زائد مریضوں کو علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی۔ ان میں سے کچھ مریضوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

بھارتی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تین ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم کو آندھرا پردیش بھیجا جا رہا ہے جو خصوصی طور پر بچوں میں اس پُراسرار بیماری کا معائنہ کریں گے۔

دوسری جانب ریاست کے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پُراسرار بیماری میں مبتلا بچوں کو ممکنہ طور پر ملیریا جیسے بخار کے باعث اینٹی ملیریل ادویہ دی گئی ہوں جس کے باعث بچوں میں یہ کیفیت پیدا ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آندھر پردیش کے ایلورو شہر میں اچانک ہی کئی سو افراد کو الٹیوں، بیہوشی اور مرگی کے دورے پڑنے کی شکایات ہونے لگی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہفتے کی رات سے مسلسل مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو آندھر پردیش کے وزیراعلیٰ وائی ایس جگموہن ریڈی نے ایلورو کے سرکاری اسپتال کا دورہ کیا ہے اور مریضوں سے ملاقات کے دوران تمام تر طبی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعلیٰ نے اسپتال میں اچھی کوالٹی کے کھانے کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف میڈیکل افسر نے وزیراعلیٰ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ یہ بیماری صرف ایلورو کے شہری علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں سے بھی اس کی اطلاع ملی ہے۔

دوسری طرف ریاست کے سابق وزیراعلیٰ این چندر بابو نائیڈو نےموجودہ صورتحال میں طبی ایمرجنسی کے نفاذ اور معاملے کی فوری انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پراسرار بیماری کو پانی میں آلودگی سے جوڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایلورو کے پانی میں آلودگی کی وجہ سے آندھر پردیش میں ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

اس سے قبل چیف میڈیکل افسر کہہ چکے تھے کہ مختلف علاقوں میں پینے کی پانی کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور تمام ہی رپورٹس نارمل آئی ہیں۔

میڈیار پورٹس کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پراسرار بیماری سے ایک شخص کی موت ہوچکی ہے اور کم از کم 400 افراد اس بیماری کی زد میں آئے ہیں، جن میں سے 157 کا اب بھی علاج جاری ہے جبکہ باقی افراد کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکام کے مطابق 56 ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس بیماری کے بارے میں پتہ لگا رہی ہے، جس میں کچھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اس علاقے کے مزید 50 ہزار سے زائد گھروں کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ اس پراسرار بیماری کا پتا چل سکے۔

اس بھارتی ریاست میں 8 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، وبا سے متاثرہ ریاستوں میں یہ تیسرے نمبر پر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو