امریکا نے چین کے 14 اعلیٰ حکام پر سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں

امریکا نے چین کے 14 اعلی حکام پر ویزا اور اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہانگ کانگ میں حزب مخالف کے قانون سازوں کی نااہلی میں کردار ادا کرنے کی بنا پر امریکا نے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کی نائب چیئرپرسن کو ہدف بنایا گیا ہے اور دیگر حکام پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے خلاف امریکا کی جانب سے کیے جانے والے سخت اقدامات دراصل صدر ٹرمپ کی جانب سے جاتے جاتے اپنے جانشین نومنتخب صدر جو بائیڈن کے لیے مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکیٹیوسمیت دیگر حکام پر پابندیاں عائد کرچکا ہے اور حال ہی میں امریکا نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے عہدے داروں پر نئی ویزا پابندیاں عائد کی ہیں۔

دو روز قبل امریکا نے چین کے ساتھ ثقافتی تبادلے کے متعدد پروگرام بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ دونوں ممالک کے درمیاں رواں سال تجارتی تنازعات ، کورونا وائرس، تائیوان اور ہانگ گانگ کی صورت حال کے باعث سفارتی تعلقات بدترین سطح پر آچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جن 14 افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ اور ان کے اہل خانہ امریکا کا سفر ممنوع ہوگا۔ امریکا میں ان کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور کسی بھی امریکی فرد یا کمپنی پر ان افراد سے لین دین کی پابندی ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کے بعد ایشیائی اسٹاک منڈیوں میں مندی کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ یورپ اور امریکا کی صورت حال کے باعث پہلے مشکلات کی شکار عالمی منڈیاں اب دونوں اقتصادی قوتوں کی کشیدگی کے باعث مزید دباؤ کا شکار ہوگئی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو