نیب کی وجہ سے 80، 80 سال کے لوگ جیلوں میں پڑے ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہےکہ ہم سسٹم سے باہر کوئی کام نہیں کریں گے، انسانی حقوق پامال ہوئے ہیں، قومی احتساب بیورو (نیب) تردید کررہا ہے لیکن اس سے کچھ نہیں ہوتا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ ہمارا احتساب ہوتا ہے، اثاثے ڈیکلیئرڈ ہوتے ہیں، سارے اداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، میری انویسٹی گیشن ضرور کریں، ڈیڑھ سال سے تو چل رہی ہے، پر کرپشن کی آڑ میں بزنس مین اور پرائیویٹ سیکٹر کوخراب نہ کریں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ نیب کو خط لکھ چکا ہوں کہ پارلیمنٹیرینز کو بلا ضرورت بلا کر خراب نہ کریں، اگر کوئی بات ہے تو نیب چیئرمین کو آگاہ کرے، ہم سسٹم سے باہر کوئی کام نہیں کریں گے، انسانی حقوق پامال ہوئے ہیں، نیب تردید کر رہا ہے، اس سے کچھ نہیں ہوتا، نیب کی وجہ سے 80، 80 سال کے لوگ جیلوں میں پڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ساری جدوجہد اپنے لیے نہیں بلکہ ان کے لیے ہے جو متاثر ہوئے ہیں اور جو پہلے ہی جیلوں میں ہیں، مانڈوی والا بلڈرز بہت پرانی کمپنی ہے، کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، نیب بے نامی نہیں سمجھتا، نیب کو چیلنج کرتا ہوں کہ عدالت میں بےنامی ثابت کردے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

ان کاکہنا تھا کہ نیب افسران کے آمدنی سے زائد اثاثہ جات ہوں گے، ان کی ڈگریاں بھی چیک کریں گے، نیب کی طرح چھپے کمرے میں انویسٹی گیشن نہیں کریں گے، جب ان کی انویسٹی گیشن ہوگی تو آپ سب بیٹھیں گے، پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ کوئی نیب کا احتساب کرے گا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ نیب کی حراست میں جتنے لوگوں کی اموات ہوئیں سب سامنے لائیں گے اور جو خود کشیاں ہوئی ہیں وہ بھی سامنے لائیں گے. نیب نے غوری ٹاؤن سمیت جتنی جگہوں پر جو سرمایہ کاری کی ہمیں معلوم ہے، لوگ مجھے فون کرکے کہتے ہیں کہ آپ نیب کیخلاف جہاد کریں، ہم ساتھ ہیں، جس جس کے ساتھ نیب نے یہ ظلم کیا سب کو ہیومن رائٹس کمیٹیز میں بلائیں گے اور نیب کا اصل چہرہ عوام کے سامنے رکھیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو