سودی نظام کے خلاف مقدمات میں طویل التواء کیلئے اسٹیٹ بینک کی استدعا مسترد

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خلاف مقدمات کی سماعت میں طویل التواء کے لئے اسٹیٹ بینک کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمہ کو طویل عرصے تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملک سے سودی نظام کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کی تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے گزشتہ سماعت کے حکم کے مطابق تحریری معروضات جمع کرانے کی بجائے زبانی طور پر موقف اختیار کیا کہ ان کی اٹارنی جنرل پاکستان اور سٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام سے مشاورت ہوئی ہے جنہوں نے اس معاملے میں عدالت سے وقت لینے کی تجویز دی ہے تاکہ مناسب تیاری کے ساتھ عدالت کی معاونت کی جائے۔

عدالت نے اسٹیٹ بینک کے وکیل سے کہا کہ اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اس عدالت کے سماعت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر چکے ہیں ان کا موقف عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے، ہمیں علم نہیں ہے اٹارنی جنرل تبدیل ہو چکے ہیں یا نہیں، کیا اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور وفاق کا موقف تبدیل ہو گیا ہے؟… اٹارنی جنرل کا موقف جمع ہو چکا ہے اور وہ ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے، عدالت مزید انتظار نہیں کر سکتی۔

اس دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کا تحریری موقف عدالت میں موجود ہے اس پر قائم ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے ریمانڈ آرڈر میں شرعی عدالت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دائرہ اختیار پر بھی اپنا فیصلہ سنائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں ملک میں پانچ بینک اسلامک بینکنگ کر رہے ہیں، ورلڈ بینک بھی اسلامک بینکنگ کو سپورٹ کر رہی ہے، سابق اٹارنی جنرل انور مقصود خان وفاق کا موقف دے چکے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانونی عدالت پرنسپل آف پالیسی کا اطلاق نہیں کر سکتی، اسٹیٹ بینک ہرممکن اقدام کر رہا ہے جو اس کے لئے ممکن ہے، آئین کے آرٹیکل 29 کے تحت یہ پالیسی کا معاملہ ہے، اس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی آرٹیکل 38 بھی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ اتنے عرصے میں ربا ختم کیا جائے، آرٹیکل 38 میں کہا گیا ہے کہ ریاست جتنا جلدی ممکن ہو گا ربا ختم کرے گی، اس ضمن میں اقدامات اٹھانا پارلیمنٹ یا حکومت کا کام ہے، عدالت حکم نہیں دے سکتی، اسٹیٹ بینک، حکومت اور پارلیمنٹ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اس حوالے سے قانون سازی بھی ہو رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس ضمن میں جو قانون سازی زیرالتواء ہے اس کے حوالے سے اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

جماعت اسلامی کے وکیل قیصر امام ایڈووکیٹ نے اسٹیٹ بینک کے وکیل کے دلائل سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت اس عدالت کو سماعت کا اختیار ہے اور درخواست گزاروں کی طرف سے کسی آئینی شق کو چیلنج نہیں کیا گیا اور درخواستوں میں یہ بھی استدعا نہیں کی گئی کہ آئین سے انٹرسٹ کا لفظ ختم کیا جائے، حکومت یا فریقین جس چیز کو ربا سمجھتے ہیں وہ عدالت کے سامنے رکھیں، آئین ساز اس وقت آگاہ تھے کہ نظام میں ربا موجود ہے، اس لئے انہوں نے اسے ختم کرنے کی بات کی حکومت اس لفظ کی تشریح لے کر آ جائے، ہوسکتا ہے کسی جگہ پر انٹرسٹ کی تشریح ربا ہو اور کہیں پر نہ ہو۔

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما پروفیسر ابراہیم نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آئین کی رو سے قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ عدالت میں سماعت کے دوران چاروں صوبوں اور اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے دائرہ کار کو تسلیم کیا ہے لیکن اکیلے سلمان اکرم راجہ آج بھی اس کو چیلنج کر رہے ہیں۔ پروفیسر ابراہیم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے حوالے بھی دیے۔

چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل شرعی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر چکے ہیں، یہ عدالت آئین اور قانون میں تبدیلی کا حکم نہیں دے سکتی اور نہ ہی کوئی قانون بنانے سے روک سکتی ہے۔

عدالت نے سلمان اکرم راجہ کی طرف سے کیس کی سماعت جنوری تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جو اقدامات بھی کرنا ہیں حکومت نے کرنے ہیں، اگر حکومت نے کوئی پیش رفت کی ہے تو اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے، عدالت نے تمام فریقین کو اپنی مصروفیات تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائی جائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو