یہ تاثر درست نہیں کہ نیب پلی بارگین کی منظوری دیتا ہے. نیب

قومی احتساب بیورو (نیب ) نے واضح کیا ہےکہ میڈیا میں دیا جانے والا تاثر درست نہیں کہ نیب پلی بارگین (رضاکارانہ رقم کی واپسی) کی منظوری دیتا ہے بلکہ اس کی منظوری خود ملزم کی درخواست پر احتساب عدالت دیتی ہے۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ ملزم احتساب عدالت میں نہ صرف اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے بلکہ احتساب عدالت میں اپنی مرضی سے اپنا بیان ریکارڈ کراتا ہے اور لوٹی گئی رقم کی پہلی قسط بھی جمع کراتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق پلی بارگین، نیب آرڈیننس 1999ء کے آرٹیکل 25 بی کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے، ملزمان نیب کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ٹھوس ثبوت اور شواہد کو دیکھ کر پلی بارگین کا راستہ رضاکارانہ طور پر اختیار کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا، نیب پلی بارگین کے ذریعے لوٹی گئی رقم وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کراتا ہے، وہ یہ قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہا ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک میں بھی پلی بارگین کی جاتی ہے، پلی بارگین کے بعد ملزم 10سال کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھی نااہل ہو جاتا ہے اور وہ شیڈول بینکوں سے قرضے کے حصول کے لیے بھی نااہل ہو جاتا ہے، اس کی کمپنی بلیک لسٹ ہو جاتی ہے، اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو احتساب عدالت سے پلی بارگین کی منظوری کے بعد اسے ملازمت سے سبکدوش کر دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ کی جانب سے نیب کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ نیب افسران کے آمدنی سے زائد اثاثہ جات چیک ہوں گے، ان کی ڈگریاں بھی چیک کریں گے، نیب کی طرح چھپے کمرے میں انویسٹی گیشن نہیں کریں گے، جب ان کی انویسٹی گیشن ہوگی تو آپ سب بیٹھیں گے، پہلی مرتبہ ایساہوگا کہ کوئی نیب کا احتساب کرے گا۔

ڈپٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جوخودکشیاں ہوئی ہیں وہ بھی سامنے لاؤں گا، نیب کےنوٹس آنے پر بہت لوگوں نے خودکشیاں کیں، نیب کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان میں ہر غیر ملکی سفیر سے رابطہ کروں گا. جس کو نیب کے نوٹسز آجائیں بینک اس کے اکاؤنٹ بند کردیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو