بنگلا دیش نے روہنگیا پناہ گزینوں کو غیرآباد جزیرے پر منتقل کرنا شروع کردیا

بنگلہ دیش نے پہلے مرحلے میں ایک ہزار 600 روہنگیا پناہ گزینوں کو بھاسن چار کے متنازعہ جزیرے پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بنگلادیش میں کاکس بازار کے پناہ گزین کیمپ سے 1 ہزار 600 روہنگیا تارکین وطن کو لے کر بحری فوج کی 7 کشتیاں ایک غیر آباد اور متنازعہ جزیرے بھاسن چار پہنچ گئیں۔ 5 کشتیوں پر پناہ گزین جب کہ دو میں خوراک اور اشیائے ضروریہ موجود تھیں۔

ادھر بنگلا دیشی حکومت کے اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی قوتوں سے بنگلا دیش کو باز رکھنے کی اپیل کی اور عالمی نمائندوں سمیت غیر جانبدار ماہرین کو جزیرے کے معائنہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب بنگلادیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے موقف اختیار کیا کہ پناہ گزینوں کو ان کی رضامندی کے بعد ہی جزیرے منتقل کیا جا رہا ہے جہاں تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور یہ اقدام پناہ گزین کیمپوں میں بڑھتے ہوئے رش اور بوجھ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

2017ء میں میانمار کی فوج اور بدھ مت کے شدت پسندوں نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی اور انہیں ہجرت پر مجبور کردیا تھا جس کے باعث 8 لاکھ پناہ گزین بنگلادیش کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں میانمار حکومت اور فوج کیخلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف مقدمہ چل رہا ہے جہاں میانمار کی سربراہ نے اپنی صفائی بھی پیش کی تھی تاہم اس کے باوجود مسلم اقلیت کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو