ذیابیطس کے مریضوں کو سب سے پہلے کووِڈ 19 ویکسین دی جائے، ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو سب سے پہلے یہ کووِڈ 19 ویکسین لگائی جائے کیونکہ صحت مند لوگوں کے مقابلے میں ان افراد کے کورونا وائرس سے شدید طور پر متاثر ہونے کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہے۔

وینڈربلٹ یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کی تفصیلات امریکن ڈائبٹیز ایسوسی ایشن کے نمائندہ تحقیقی مجلّے ’’ڈائبٹیز کیئر‘‘ کے تازہ شمارے (دسمبر 2020ء) میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کےلیے کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونے کا خطرہ پہلے ہی سامنے آچکا ہے لیکن ٹائپ ون ذیابیطس کا معاملہ واضح نہیں تھا۔

اس نئی تحقیق میں ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں کےلیے بھی کورونا وائرس کے شدید اثرات کا تقریباً وہی خطرہ سامنے آیا ہے جتنا ٹائپ ٹو ذیابیطس کو ہوتا ہے۔

مذکورہ تحقیق میں ایسے چھ ہزار سے زائد کورونا مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جنہیں اس سال مارچ سے اگست کے درمیان وینڈربلٹ یونیورسٹی کے زیرِ انتظام 127 اسپتالوں اور طبّی مراکز میں داخل کروایا گیا تھا۔

ان تمام مریضوں کی کیس ہسٹری کھنگالنے کے بعد معلوم ہوا کہ ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے وہ افراد جو پہلے سے ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں سے کسی بھی ایک بیماری میں مبتلا تھے، ان کی حالت دوسرے متاثرینِ کورونا وائرس سے زیادہ خراب تھی۔

اس تحقیق کی بنیاد پر ماہرین نے امریکا سمیت دنیا بھر کے طبّی پالیسی سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ کووِڈ 19 ویکسین ترجیحی بنیادوں پر بزرگوں اور موٹے لوگوں کے علاوہ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو سب سے پہلے دی جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو