سوشل میڈیا پر لنگڑاتا سچ اور دوڑتا جھوٹ

امریکی مصنف ایرک کولمین (Erik Qualman) کی کتاب ’’سوشل نامکس‘‘ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک فرد کا دوسروں سے تعلق انٹرنیٹ کی وجہ سے بنتا ہے۔

جدید دور کی اس جادوئی ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ کسی بھی شخص سے رابطہ فقط ایک ’’کلک‘‘سے ممکن ہے۔ آج کوئی بھی شخص ہر اس سماج کا حصّہ بن سکتا ہے جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے اس کی رسائی ہے۔

مختلف ویب سائٹس، میسنجرز یا ایپس کے ذریعے دنیا بھر میں سماجی روابط کو فروغ دینا نہایت آسان ہوگیا ہے۔ ان میں مشہورِ زمانہ اور مقبولِ عام فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ وغیرہ ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ کی نگری میں جو مقام اور مقبولیت فیس بک کو حاصل ہے وہ کسی اورکے حصّے میں نہیں آئی ہے۔

فیس بک دنیا بھر میں ہر عمر اور طبقات میں یکساں مقبول ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ، خواندہ، نیم خواندہ مرد و زن اپنے گھر سے لے کر دفتر اور کام کی جگہوں پر ’’لاگ ان‘‘ کرتے ہیں۔ فیس بک کی ہر طبقہ ہائے فکر میں مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ صارف اسے عام اسمارٹ فونز میں بھی بہ آسانی استعمال کرسکتا ہے۔

2004ء میں فیس بک کو مارک زکر برگ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے دنیا سے متعارف کروایا تھا جسے آج ایک عام آدمی سے لے کر مشہور اور قابلِ ذکر شخصیات تک استعمال کررہی ہیں۔ یہ فیس بک ہی ہے جس کی کوئی پوسٹ وائرل ہوکر ’’ٹرینڈ‘‘ بنتی ہے تو اس سے الیکٹرانک میڈیا بھی متاثر ہوتا ہے جس کی پاکستان میں ایک مثال زینب زیادتی کیس تھا۔ اس معصوم کے بارے میں سب سے پہلے فیس بک ہی پر پوسٹ لگی تھی جس کے بعد یہ خبر الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز اور پھر ٹاک شوز کا موضوع بنی اور اربابِ اختیار کو جھنجھوڑا جس کے بعد یہ کیس منطقی انجام کو پہنچا۔

جہاں اس حوالے سے مثبت پہلو ہمارے سامنے ہیں، وہیں اس مقبولِ زمانہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کا منفی استعمال بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس پلیٹ فارم پر مخالفین کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولنا اور اس کے لیے تحریری اور تصویری مواد کا سہارا لینا عام ہے۔

اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو دیکھا جا سکتا ہے جو اپنے مخالفین کا مذاق اڑانے، ان کی تذلیل کرنے کے لیے استہزائیہ کارٹون پوسٹ کرتے ہیں یا ان کی اصل تصاویر کو مختلف سافٹ ویئرز کی مدد سے کاٹ چھانٹ اور اضافہ و کمی کرکے شیئر کروا دیا جاتا ہے۔ مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریریں اور پروپیگنڈا معمول ہی ہے۔

اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر سبھی سیاسی پارٹیوں کے میڈیا سیل مختلف مواقع پر مباحث چھیڑنے کے علاوہ سیاسی اور انتخابی مہمات کے دوران خاص طور پر متحرک رہتے ہیں اور مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش کے دوران کارکن یا سیاسی ہم درد اور ووٹرز بھی اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے، لیکن اس کا سدّباب کرنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اور جامع میکنزم نہیں ہے۔

یہ کہا جائے تو کیا غلط ہو گا کہ یہاں کسی سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی شخصیت کی عزت اور دستار محفوظ نہیں ہے۔ نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بداخلاقی کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے غلاظت پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ عام صارف بھی بدکلامی، بدتمیزی کے علاوہ ہراسانی، غیرضروری اور ناپسندیدہ پیغامات کی وجہ سے اکثر ذہنی کوفت اور سخت اذّیت کا سامنا کرتا ہے۔

فیس بک تک چوں کہ ہر خاص و عام کی رسائی آسان ہے، اس لیے یہ شدت پسنداور منفی عناصر کی پہنچ میں بھی ہے جو ملک میں بدامنی، فرقہ واریت، نسلی تعصب، حکومت مخالف پروپیگنڈا، مایوسی، خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر قسم کی منفی سرگرمی انجام دینا ان کے لیے آسان ہے۔

گویا یہ پلیٹ فارم عام لوگوں کی ذہن سازی کے لیے راہ ہموار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جہاں پر بہت آسانی سے نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز مواد بہ آسانی شیئر کیا جا سکتا ہے جو منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور انھیں متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جن علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، وہاں فیس بک کے ذریعے لوگوں کی حمایت حاصل کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی فیس بک اکاؤنٹ، فیس بک پیجز کے ذریعے ریاست اور حکومت مخالف پراپیگنڈے اور بغاوت پر اکسانے کی کوششوں کا سرکاری سطح پر نوٹس میں لیا گیا ہے۔

پاکستان میں سائبر کرائم بل 2016ء متعارف کروایا گیا تھا، جس کے تحت جرمانے اور سزا الگ الگ اور جرم ثابت ہونے پر بیک وقت بھی دی جا سکتی ہے، لیکن یہ بل ملک بھر میں سائبر کرائم، جن میں سر فہرست حکومت مخالف سرگرمیاں اور جعلی خبریں، ناموسِ رسالت کے منافی اور نفرت پھیلانے والا مواد کو روکنے میں قابل ِذکر کام نہیں کرسکا۔

انٹرنیٹ نے انسان کی فکر کو وسعت دی ہے، اسے شعور اور آگاہی دینے میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، لیکن اسی پلیٹ فارم سے سیاست اور مذہب کے حوالے سے شدت پسندوں کی سرگرمیوں نے عدم برداشت کو بڑھاوا دیا ہے۔ جھوٹی یا جعلی خبروں سے جمہوریت کی اصل شکل اور اس کی بقا کو خطرات بڑھ گئے ہیں اور منطق و دلیل کے ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے مباحث کی روایت دم توڑتی جارہی ہے۔

برطانوی ارکان پارلیمان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان گروہوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہیں جو انتہاپسندی کے فروغ کے لیے ان کے پیجز کا سہارا لیتے ہیں۔ برطانوی رکن پارلیمان کیتھ ویز، جو داخلہ امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں، نے تو یہ تک کہا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پروپیگنڈے کے پسندیدہ ذرائع ہیں اور یہ دہشت گردی کا بہترین پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔ انھوں نے اصرار کیا کہ انھیں تفصیل فراہم کرنا چاہیے کہاکہ وہ اس قسم کا کتنا مواد ہٹاتے ہیں اور کتنی جلدی ہٹاتے ہیں۔

دوسری طرف نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق چائلڈ پورن انڈسٹری دوبارہ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ایک برطانوی خبررساں ادارے نے بچوں کی فحش تصاویر فیس بک انتظامیہ کو

رپورٹ کیں تو ان میں سے صرف 18 ہٹا ئی گئیں جب کہ بے شمار فیس بک اکاؤنٹس کے خلاف رپورٹ کرنے کے باوجود ایکشن نہیں لیا گیا۔

ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر 20 ملین یعنی دو کروڑ ویب سائٹس یا پیجز کے ذریعے فحش مواد کی تشہیر کی جارہی ہے اور اسے پھیلایا جارہا ہے، جس سے نوجوان نسل بے راہ روی اور جنسی صحّت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہورہی ہے اور ان کے لیے طرح طرح کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

پاکستان میں بھی اس حوالے سے صورتِ حال بدتر ہے۔ یہ غیرصحّت مندانہ مواد عمر و جنس کی تفریق کے بغیر تیزی سے مشتہر ہوتا ہے اور نوعمروں تک بھی پہنچتا ہے جس کے ان پر نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر سے چائلڈ پورنوگرافی کی آمدنی کا تخمینہ 20 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ چائلڈ پورنوگرافی دنیا بھر میں قانوناً جرم ہے۔ یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق 20 لاکھ بچے دنیا بھر میں مختلف انداز سے زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ بغیر روک ٹوک سوشل میڈیا کے ذریعے بدترین جنسی تشدد اور فحاشی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر تشہیر اور اعدادوشمار اکٹھا کرنے والی کمپنی سوشل بیکرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فیس بک استعمال کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں 28 ویں نمبر پر آچکا ہے۔ کمپنی کے مطابق پاکستان کے 40 لاکھ کے قریب فیس بک صارفین کی عمر 18 سے 24 سال کے درمیان ہے جب کہ صارفین کا دوسرا بڑا گروہ 24 سے 35 سال کی عمر کاہے۔ پاکستان میں فیس بک صارفین میں 70 فی صد مرد اور خواتین کی تعداد 30 فی صد ہے۔

کہتے ہیں اگر آپ کو کچھ فروخت نہیں کیا جا رہا تو آپ خود بھی ایک پروڈکٹ ہیں۔ یہ مقولہ فیس بک صارفین پر صادق آتا ہے کیوں کہ وہ جتنا زیادہ وقت فیس بک پر گزارتے ہیں فیس بک اتنا ہی زیادہ ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کام یاب رہتا ہے اور اشتہارات ان کے پیج تک آتے ہیں جس سے کمپنیوں کو مختلف صورتوں میں زبردست مالی منافع حاصل ہوتا ہے۔

فیس بک صارف کے بارے میں جو اندازے قائم کرتا ہے وہ دراصل تھالی میں سجا کر صارف خود پیش کرتا ہے۔ جیسے کسی پیج پر لائک، مصنوعات اور پراڈکٹ کے بارے میں تحریری یا تصویری مواد دیکھنا اور پڑھنا اور اسی طرح خوش رنگ اور خوش نما اشتہارات پر کلک کرنے سے ہم بہ ذاتِ خود اپنی معلومات فیس بک کو مہیا کرتے ہیں اور اس وجہ سے ہیکرز کا بھی شکار بن جاتے ہیں۔

ماہرین کہتے آئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر غیرضروری طور پر اپنی معلومات کی نشرواشاعت نہ کی جائے کیوںکہ یہ معلومات بہ آسانی ہیکرز تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ اپنے فائدے کے لیے ان معلومات کو استعمال بھی کرتے ہیں۔ ہیکرز انفرادی حیثیت میں نشانہ بنانے کے ساتھ کسی ادارے کے ڈیٹا تک بھی پہنچ سکتے ہیں جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

اداروں تک رسائی وہاں کے ملازمین کے ایسے ای میل جن میں مال ویئر ہوں، کی بدولت ممکن ہوتی ہے جب کہ کسی ادارے کے سسٹم ایڈمنسٹریٹر اور آئی ٹی نیٹ ورک کو چلاتے اور سنبھالنے والوں کے کمپیوٹروں کے مال ویئر سے متاثر ہونے کی صورت میں تو گویا محل کی کنجی ہی ہیکرز کے ہاتھ لگ جاتی ہے اور اندر داخل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

فیس بک کا زیادہ اور غیرضروری استعمال ہماری روزمرہ زندگیوں پر بڑے غیرمحسوس انداز میں اثر انداز ہو رہا ہے۔ سماجی روابط میں ہم جتنی تیزی سے فاصلے گھٹاتے جارہے ہیں، وہیں اپنے خاندانی روابط اور تعلقات کو بھی کم زور کرلیا ہے اور اور اس میں سب سے زیادہ نقصان ازدواجی زندگی کو پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں رنجشیں، دوری اور سخت اختلافات کے بعد طلاق تک بات پہنچ رہی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں آسڑیلیا کی معروف قانونی کمپنی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل نیٹ ورک شادی شدہ زندگی کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں، ہر سات میں سے ایک طلاق انہی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔

پروفیسر سری نواسن کا نام شاید آپ نے بھی سنا ہو۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف جرنلزم میں طلبہ کے امور کے ڈین اور پروفیسر ہیں اور اس اسکول میں ڈیجیٹل میڈیا پروگرام پڑھاتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’حقیقی زندگی میں ہم جس چیز کو عقل َسلیم سے تعبیر کرتے ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی وہی عقل سلیم ہوتی ہے، اس لیے ان پر ضرورت سے زیادہ چیزیں شائع نہ کریں۔ ٹوئٹر یا فیس بک پر لکھی ہوئی بات ہمیشہ یا طویل عرصہ تک موجود رہتی ہے اور اس سے حقیقی نقصان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘

سری نواسن کو 2004ء میں نیوز ویک میگزین نے امریکا کی انتہائی بااثر جنوب ایشیائی شخصیات میں سے ایک کے طور پر نام زد کیا تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر تعلیم و آگاہی دینے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی اور روزگار کے متعلق معلومات دیتے اور مفید مضامین شائع کرتے ہیں۔

یاد رکھیے سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس اور ان کے پیجز پر نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے، نہ کوئی دشمن، اور ہر شخص آپ کی ہر بات پر آسانی سے یقین بھی نہیں کرتا۔ لہٰذا جب آپ کسی سنجیدہ اور ٹھوس موضوع پر کچھ لکھنے جارہے ہیں، سیاست، مذہب یا کسی سماجی مسئلے سے متعلق کوئی خبر اور اہم معلومات شیئر کر رہے ہیں تو ثبوت کے ساتھ بات کیجیے۔

غلط فہمی پھیلانے اور جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک تو سنجیدہ و باشعور طبقہ آپ کے بغیر ثبوت، دلیل و منطق کے بات کرنے پر یقین نہیں کرے گا اور دوسری طرف کچھ لوگ آپ کے کندھے کو بندوق رکھنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ کسی حساس موضوع پر اظہارخیال میں ازحد احتیاط کیجیے ورنہ کسی فرد اور گروہ کے ہاتھوں زندگی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے اور بعض صورتوں میں قانون کے شکنجے میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو