جسٹن ٹروڈو کا بھارتی کسانوں کے احتجاج کی حمایت کا اعادہ

کینڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مودی سرکار کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر بھارتی کسانوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اوٹاوہ میں پریس کانفرنس کے دوران بھارتی بیان سے متعلق ایک سوال پر جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جہاں بھی اپنے حق کے لیے پرامن احتجاج ہوگا، کینیڈا ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا، ہمیں خوشی ہے کہ کشیدگی ختم کرنے اور بات چیت کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جب ان سے سنگین نتائج سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا۔

چند روز قبل کینیڈین وزیراعظم نے ایک بیان میں بھارتی کسانوں کے احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا بھارتی کسانوں کے پرامن احتجاج کے دفاع میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوگا۔

کینڈین وزیراعظم کے اس بیان پر بھارتی وزارت داخلہ نے گذشتہ روز کینیڈین ہائی کمشنر کو طلب کرکے جسٹن ٹروڈو کے بیان پر احتجاج کیا۔

بھارتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کسانوں کے احتجاج پر کینیڈین وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے دیگر ارکان کا بیان ملک کے داخلی امور میں ’ناقابل قبول‘ مداخلت ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے اقدامات جاری رہے تو اس سے دو طرفہ تعلقات میں سنگین نوعیت کے اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل کینیڈین وزیراعظم نے ایک بیان میں بھارتی کسانوں کے احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا بھارتی کسانوں کے پرامن احتجاج کے دفاع میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوگا۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کینیڈا کسانوں کے معاملے پر بھارتی حکومت سے رابطے میں ہے۔

کسانوں کی حمایت پر کینڈین وزیراعظم کا یہ بیان بھارتی حکومت کو بالکل پسند نہیں آیا تھا اور فوری طور پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے کم علمی اور غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ سفارتی بات چیت کو سیاسی ضرورت کے لیے توڑ مروڑ کر نہ پیش کیا جائے۔

بھارت میں نئے زرعی قوانین کیخلاف گذشتہ 20 روز سے ریاست پنجاب، ہریانہ، دلی، راجستھان اور اترپردیش کے کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔

کسان لیڈروں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ دہلی کے اہم ہائی ویز جام کرکے آمد ورفت پوری طرح سے بند کردیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو