سعودیہ کا اسرائیل سے تعلقات پر مشروط آمادگی کا اظہار

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کے ساتھ مشروط تعلقات پر آمادگی ظاہر کردی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل سے معمول کے تعلقات سے پہلے فلسطینی ریاست قائم کی جائے، سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ معمول کے مکمل تعلقات استوار کرنے کے لیے ہمیشہ سے تیار رہا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیل کو مقام ملنے اور پائیداری کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے، ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام ہی سے ہی خطے میں حقیقی امن قائم ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے میڈیا سے گفتگو میں اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ فلسطین کی 1967ء والی حیثیت سے کم ناقابل قبول ہوگا۔

وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلقات کی بحالی کے لیے یہ شرط سعودی عرب کے فلسطین سے متعلق وژن کی عکاس ہے جس کے تحت 1982ء میں بھی اُس وقت کے ولی عہد فہد بن عبدالعزیز نے فاس میں مذاکرات بھی کیے تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی اور اسرائیلی ویر اعظم کے خفیہ دورے میں ولی عہد سے ملاقات سے یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو