ارناب کیخلاف 1914 صفحات پر مشتل چارج شیٹ، قصور وار قرار

ممبئی پولیس نے بھارتی اینکر ارناب کے خلاف 1914 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ تیار کرلی. جس میں انھیں انٹیریئر ڈیزائنر کو بروقت اس کی رقوم نہ دینے کے باعث خودکشی میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ارناب گوسوامی سمیت دو افراد کے خلاف خودکشی پر اکسانے کے خلاف چارج شیٹ جوڈیشل مجسٹریٹ علی باغ کو جمع کروادی۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ارناب گوسوامی نے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اس کیس کی تحقیقات رکوانے اور عدالت میں چارج شیٹ کو روکنے کی درخواست کی تھی۔

خیال رہے کہ ارناب گوسوامی کے خلاف یہ مقدمہ 53 سالہ انٹیریئر ڈیزائر اور ان کی والدہ کی خودکشی اور پھر خودکشی کے پیغام کے بعد درج کیا گیا۔

انھیں ممبئی کی پولیس نے گھر پر چھاپا مار کر گرفتار کیا تھا، جبکہ کچھ روز حوالات میں رہنے کے بعد انھوں نے اپنی ضمانت کروالی تھی۔

پولیس کے مطابق ارناب گوسوامی پر اس انٹیریئر ڈیزائنر کے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ بھارتی روپے واجب الادا ہیں۔

انٹیریئر ڈیزائنر اور ان کی والدہ 5 مئی 2018ء کو ممبئی کے علی باغ فارم ہاؤس میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، جبکہ ان کی لاشوں کے پاس ایک خودکشی پیغام بھی ملا جس میں انھوں نے رقوم کی عدم ادائیگی کو خودکشی کی وجہ قرار دیا تھا۔

پولیس کی عدالت میں جمع کروائی گئی چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ ارناب گوسوامی اور دیگر دو افراد نے خودکشی کرنے والے ڈیزائنر کو کام سونپا تھا جو اس نے پورا کیا، بعد میں اسے اضافی کام دیا گیا جو ڈیزائنر نے مکمل کیا تاہم اس اضافی کام کی اسے ادائیگی کم کی گئی۔

چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ملزمان نے ڈیزائنر کو وقت پر ادائیگی نہیں کی اور اسے ادائیگی کے لیے تاریخ پر تاریخ دیتے رہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ متوفی نے ملزمان سے بار بار درخواست کی لیکن انھوں نے اس کی رقوم ادا نہیں کی جس کی وجہ سے اس نے انتہائی قدم اٹھالیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں 65 گواہان موجود ہیں جن میں سے کچھ نے سیکشن 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کروادیے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو