سبز چائے میں کورونا وائرس کی ایک قسم کو روکنے والا کیمیکل دریافت

سبز چائے، ایک قسم کا انگور اور سیاہ چاکلیٹ کے اندر خاص کیمیکل دریافت ہوا ہے جس کورونا وائرس کی ایک دوسری لیکن خطرناک قسم سارس کوو ٹو وائرس کو پھیلنے سے روکتا ہے۔

اس وائرس میں ایک طرح کا خامرہ (اینزائم) موجود ہوتا ہے جسے ایم پی آر اور کہا جاتا ہے۔ ایم پی آر او کی ہی وجہ سے وائرس تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔ لیکن سبزچائے اور ایک طرح کے مشک انگور میں ایسا کیمیکل موجود ہے جو اس وائرس کو مزید بڑھنے یعنی ضرب ہونے سے روکتا ہے۔

کورونا وائرس کو بڑھانے والا جو خامرہ ہے وہ ایک طرح کا پروٹیئس ہے اور یہ خیراورشر دونوں کی وجہ ہوتے ہیں یعنی صحت کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں تو وائرس بھی اپنی تعداد بڑھانے کے لیے ان پر انحصار کرتےہیں۔ اب نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ڈی یو ژائی اور ان کےساتھیوں نے بتایا ہے کہ کسی طرح ’ سارس کوو ٹو وائرس‘ کا خامرہ قابوکرلیا جائے تو وہ وائرس کی بڑھتی ہوئی تعداد رک جاتی ہے۔

اس تحقیق میں تجربہ گاہی عمل کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سیمولیشن سے بھی مدد لی گئی ہے۔ اس وائرس کا مرکزی پروٹیئس وائرس کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی طرح یہ خامرہ ماردیں تو خود وائرس بھی فنا ہوجاتا ہے۔ تجربہ گاہ میں سبزچائے کا ایک کیمیکل جب وائرس پر ڈالا گیا تو وہ ایم پی آر او سے چپک گیا اور اسے کوئی بھی کام کرنے سے روک دیا۔

اگرچہ انگور اور گہری چاکلیٹ میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے لیکن سبزچائے کی خاصیت سب سے الگ ہے کیونکہ اس میں پانچ کیمیکل پائے جاتے ہیں جو ایم پی آر اور کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ تحقیق فرنٹیئرز ان پلانٹ سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس تحقیق میں امریکی محکمہ زراعت کی معاونت بھی شامل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو