یورپی یونین نے بائیڈن کے ساتھ ملکر عالمی تبدیلی کا نیا ایجنڈا پیش کردیا

یورپین یونین نے نئے منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملکر عالمی تبدیلی کے لئے ایک نئے ایجنڈے کی تجویز دے دی۔

یہ تجویز یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے ایک آن لائن پریس کانفرنس میں پیش کی۔

“New EU-US agenda for global change”

پر اظہار خیال کرتے ہوئے جوزپ بوریل نے کہا کہ ہم تعاون کی ٹھوس تجاویز کے ذریعے نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آئیے پیچھے کی بجائے آگے دیکھیں اور اپنے تعلقات کو بحال کریں۔

آئیے ایسی شراکت داری شروع کریں جو ہمارے اور ساری دنیا کے لوگوں کیلئے خوشحالی، استحکام، امن اور تحفظ لیکر آئے۔ اس ایجنڈے میں تعاون کیلئے 4 بڑی باتیں تجویز کی گئی ہیں۔ جس میں صحت مند دنیا، زمین کے تحفظ، تجارت اور ٹیکنالوجی میں قیادت اور سلامتی کیلئے عالمی ایکشن شامل ہیں۔

ایجنڈے میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپ اور امریکہ پہلے ہی سے مستحکم اور محفوظ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ساحل کے بارے میں اسٹریٹجک دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ علاقائی تنازعات، طاقت کے مقابلے اور باہر کی طاقت ور قوتوں کے تنگ کرنے والے رویئے کے خلاف ملکر کام کیا جائے۔ اسی طرح دونوں فریقین کو ملکر ایران کے ساتھ ہونے والے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن پر عملدرآمد کیلئے بھی کام کرنا چاہیے۔

یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے اس ایجنڈے کے حوالے سے مزید کہا کہ امریکہ اور یورپ نے ملکر مستحکم اور پر امن افغانستان کیلئے بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ اس لئے یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ افغانوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ افغانوں کے اندرونی مذاکرات اور اس کے نتائج کے باوجود قائم رہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو