کورونا کی ویکسین کتنے پیسوں میں دستیاب ہوگی؟

عالمی وبا کورونا وائرس کی متعدد ویکسین اب بڑے پیمانے پر استعمال کیلئے دستیاب ہونے جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں امریکی کمپنیوں نے سب پر بازی مارلی ہے جبکہ روس اور چین نے بھی اپنی اپنی ویکسین کے 90 فیصد سے زائد مؤثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر ان ویکیسنز کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے جس کمپنی نے کورونا ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کیا وہ امریکا کی فائزر کمپنی ہے جس نے جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے ساتھ مل کر یہ ویکسین تیار کی ہے۔

فائزر نے امریکا اور یورپی یونین سے باضابطہ درخواست بھی کردی ہے کہ اس کی ویکسین کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی منظوری دی جائے اور انگلینڈ منظوری دینے والا پہلا ملک بھی بن گیا ہے اور آئندہ ہفتے سے ویکسینیشن شروع بھی کردے گا۔

مختلف ممالک نے فائزر کو ویکسین کے لاکھوں ڈوز تیار کرنے کے پہلے ہی کروڑوں ڈالرز کے آرڈر بھی دے دیے ہیں۔ پاکستان نے بھی کورونا ویکسین کے حصول کیلئے 150 ملین ڈالر (24 ارب روپے سے زائد) مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو یہ ویکسین کتنے پیسوں میں دستیاب ہوگی؟

امریکی جریدے فوربز کے مطابق فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کی قیمت اتنی زیادہ نہیں جتنی خیال کی جارہی تھی۔

کمپنی نے امریکا کے لیے ویکسین کے ایک ڈوز کی قیمت 19.50 (تقریباً 3127 روپے) ڈالر رکھی ہے اور اسی قیمت پر امریکی حکومت نے فائزر کو 1.95 ارب ڈالر (ایک کھرب 43 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) کا کنٹریکٹ دیا ہے۔

کورونا کے مریض کیلئے ویکسین کے کم سے کم دو ڈوز ضروری ہیں اس حساب سے ایک مریض کو کورونا ویکسین کی دو ڈوز 39 ڈالر (6254 روپے) میں پڑے گی۔

اس کے علاوہ ایک اور امریکی کمپنی موڈرنا نے بھی ویکسین تیار کی ہے اور اس نے اپنے ایک ڈوز کی قیمت 25 ڈالر (4 ہزار روپے) رکھی ہے یعنی ایک مریض کو دو ڈوز کے 50 ڈالر (8 ہزار روپے سے زائد) دینے ہوں گے۔

امریکیوں کیلئے یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں کیوں کہ وہاں زکام کی سالانہ ویکسین کی قیمت بھی 40 ڈالر ہے۔

پاکستان میں یہ ویکسین کتنے میں دستیاب ہوگی اس کا فیصلہ حکومت کرے گی جبکہ اگر امریکا سے ویکسین امپورٹ کی جائے گی تو قیمت زیادہ ہوگی تاہم اگر پاکستان میں ہی امریکا کے تعاون سے ویکسین تیار کی جائے تو قیمت کم ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ممکن ہے کہ پاکستان چین کی تیار کردہ ویکسین کی بھی پاکستان میں آزمائش کرے جس کی قیمت امریکی ویکسین سے کم ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں بڑے پیمانے پر ویکسین کا استعمال اگلے سال کی دوسری سہہ ماہی میں ہونے کا امکان ہے. جس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال احتیاطی تدابیر پر عمل روکنا نہیں ہے۔

امید ہے کہ مذکورہ ویکسین اس وبا کو دبانے میں کارگر ثابت ہوگی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ویکسین کی کامیابی کا دارومدار اس کے بڑے پیمانے پر استعمال پر ہوگا، ویکسین جتنی زیادہ آسانی سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دستیاب ہوگی اتنی ہی جلدی اس وبا سے نجات ملے گی، ویکسین کے محدود استعمال سے ہرڈ امیونٹی حاصل کرنا مشکل ہوگا اور وائرس لوگوں میں موجود رہے گا اور پھیلتا رہے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو