ارکان پارلیمنٹ کی سرکاری کمپنیوں کے بورڈز میں شمولیت، حکومت سپریم کورٹ سے رہنمائی لے گی

ارکان پارلیمنٹ کی سرکاری کمپنیوں کے بورڈز میں شمولیت کےلیے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجنےکی منظوری وفاقی کابینہ نے دے دی تاہم وزیرقانون اور اٹارنی جنرل نے ارکان پارلیمنٹ کی سرکاری بورڈز میں شمولیت کو آئین کے منافی قرار دیا۔

ارکان پارلیمنٹ کی سرکاری کمپنیوں کے بورڈز میں شمولیت کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا جس کے بعد اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجنےکی منظوری دے دی گئی۔

خلاف قانون تعیناتیوں کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے دونوں معاملوں پر سپریم کورٹ میں ریفرنسز بھیجنے کی منطوری دی گئی۔

وزیرقانون اور اٹارنی جنرل نے ارکان پارلیمنٹ کی سرکاری بورڈز میں شمولیت کو آئین کے منافی قرار دیا، کابینہ کو بریفنگ میں بتایا کہ سرکاری کمپنیوں کے بورڈ میں شامل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ نااہل ہوجائیں گے لیکن وفاقی کابینہ وزیر قانون اوراٹارنی جنرل کی رائے پر متفق نہ ہوئی۔

وفاقی حکومت دونوں معاملات پر ریفرنسز کے ذریعے سپریم کورٹ سے رہنمائی لے گی، سابق دور میں کابینہ کی منظوری کے بغیر 706 افسران کی تعیناتیاں کی گئی تھیں، جولائی 2018ء کے بعد بھی 93 افسران کی خلاف قانون تعیناتیاں کی گئیں۔

سپریم کورٹ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر افسران کی تعیناتیوں کو خلاف قانون قرار دیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو