‘پی ڈی ایم کا جلسہ 13 دسمبر کو ہی ہو گا، تصادم ہوا تو ذمہ دار حکومت ہو گی’

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اپوزیشن کا جلسہ 13 دسمبر کو مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں ہی ہو گا۔

پی ڈی ایم پنجاب کے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے کسی جلسے میں کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملتان میں جو رویہ حکومت نے اختیار کیا، وہ آمریت میں بھی نہیں دیکھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا جلسہ 13 دسمبر کو لاہور کے مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہو گا اور اگر تصادم ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا جیو نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی تک پی ڈی ایم نے لاہور جلسے کے لیے درخواست نہیں دی ہے، جب جلسے کی درخواست آئے گی تو حکومت اپنی حکمت عملی سامنے لائے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمانوں کے پاس معلومات ہی نہیں ہوتیں، لاہور جلسے کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ لاہور جلسے میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا حکومتی بیان پی ڈی ایم کی پہلی کامیابی ہے، پی ڈی ایم نے عمران خاں کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسے عمران خان کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے، حکومت نے گوجرانولہ سے ملتان تک جلسوں میں رکاوٹیں ڈالیں، لیکن اس کے باوجود عوام پی ڈی ایم کے جلسوں میں پہنچی اور ہر جلسہ کامیاب ہوا۔

ترجمان مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ عوامی کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، جلسے نہ روکنے کے حکومتی بیانات سبکی والے بیانات ہیں۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے 13 دسمبر کو لاہور کے مینار پاکستان میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحما ن کا کہنا تھا کہ لاہور کا جلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہو گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو