دوسرا ایٹمی بجلی گھر کینوپ ٹو تکمیل کے آخری مراحل میں داخل

کراچی کے ساحل ہاکس بے پر زیر تعمیر دوسرے ایٹمی بجلی گھر کینوپ ٹو تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان کے مطابق 1100 میگا واٹ بجلی کی پیدواری صلاحیت کے حامل ایٹمی بجلی گھر کینوپ ٹو میں ایٹمی مواد ڈالنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کینوپ ٹو کے پلانٹ میں آج سے فیول لوڈنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے اور پلانٹ سے بجلی کی باقاعدہ پیداوار آئندہ سال اپریل سے شروع ہو جائے گی۔

ترجمان نے بتایا کہ ایٹمی بجلی گھرميں ایندھن ڈالنے سے قبل پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی سے ضابطےکی کاروائی کے مطابق اجازت لی گئی۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ندیم ذکی منج، چئیرمین ایٹمی توانائی کمیشن محمد نعیم ، ممبر پاور ایٹمی توانائی کمیشن اور چین کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔

واضح رہے کہ ایٹمی بجلی گھر 2-K پریشرائزڈ واٹر ریکٹر PWR ہے جو چائنیز HPR-1000 ٹیکنالوجی پرچلنے والا جدید خود کار حفاظتی نظاموں سے آراستہ تھرڈ جنریشن ایٹمی پاور پلانٹ ہے۔

اس کی تعمیر اگست 2015ء میں شروع ہوئی اور اپریل 2021ء میں تمام تر حفاظتی اور آپریشنل جانچ کے بعد یہ بجلی کی باقاعدہ پیداوار شروع کر دے گا۔

اسی طرز کا ایک اور پلانٹ 3- K بھی 2021ء کے آخر تک اپنی پیداوار شروع کر دے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو