ایف بی آر نے 3 لاکھ 10 ہزار آڈٹ کیسز ختم کرنے شروع کر دئیے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 3 لاکھ 10 ہزار آڈٹ کیسز کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 3 لاکھ 10 ہزار آڈٹ کیسز کو اسکروٹنی کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناکامی کے بعد ان کیسز کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، یہ کیس 6 سال سے زائد عرصے سے التوا میں تھے۔

واضح رہے کہ کیسز کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر عجلت میں یوں ختم کرنے سے قومی خزانے کو نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

ایف بی آر کی اندرونی خط و کتابت اور ٹیکس مشینری کے ذرائع کے مطابق ان آڈٹ کیسز کو ختم کرنے کے سلسلے میں ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز (علاقائی دفاتر) ہفتے اور اتوار کو کھلے رہے۔ حکومت نے یہ کیسز اپریل میں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ کیسز انسانی وسائل کی قلت کے باعث گذشتہ 3 تا 6سال سے زیرالتوا چلے آرہے تھے۔ چنانچہ اس بوجھ سے جان چھڑانے کے لیے ایف بی آر نے جامع آڈٹ کے بغیر کچھ مخصوص پیمانوں کی بنیاد پر یہ تمام کیسز بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے غیرفعال سیکشن 214D کے تحت کچھ ہائی پروفائل شخصیات اور ان کی کمپنیوں کے کیس بھی بند کردیے گئے۔ تاہم ایف بی آر کے ایک ممبر کے مطابق ان 17500 کیسز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جن میں ٹیکس دہندگان کے بارے میں کچھ معلومات موجود تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو