افغان صورتحال پر مشکل اور مخمصے کا شکار ہیں، سیکریٹری جنرل نیٹو

نیٹو کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ آن لائن اجلاس میں روس کی فوجی طاقت، چین کا عروج اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پہ گفتگو ہوئی۔

اس حوالے سے نیٹو سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اجلاس کے آغاز سے قبل ایک آن لائن پریس کانفرنس میں ان موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر ہم اس وقت ایک مشکل اور مخمصے کا شکار ہیں۔

اس وقت وہاں امن کیلئے ایک تاریخی پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ عمل اس وقت نازک لمحے میں ہے لیکن اسے تھامنا بھی ضروری ہے۔ امریکہ نے اپنی فوج میں وہاں سے کمی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس وقت وہاں 11000 نیٹو اتحاد کے فوجی باقی ہیں۔ اس میں سے آدھے یورپین ممالک اور باقی اتحادی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس صورتحال میں نیٹو اگر وہاں سے نکل جائے تو افغانستان دوبارہ سے دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بن جائے گا۔ اور اگر وہاں رکتے ہیں تو وہاں ایک طویل اور مشکل مشن کے آغاز کا خطرہ ہے۔ جس میں اب نئی شروع ہونے والی دہشت گردی کی لہر بھی شامل ہے۔ امید ہے کہ نیٹو وزرائے خارجہ اپنے آئندہ فروری میں ہونے والے اجلاس میں اس کا فیصلہ کرلیں گے۔ یہ اس اجلاس کا اہم موضوع ہوگا۔

دوسری طرف روس اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید بناتے ہوئے اپنے میزائل سسٹم کو پھیلا رہا ہے۔ وہ شام اور لیبیا سمیت ہمارے ہمسائے میں مختلف جگہوں پر اپنی افواج کو متعین کر رہا ہے۔

اسی طرح بیلاروس اور نگورنو کاراباخ کے حالیہ بحرانوں میں بھی اس کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اجلاس میں وزرائے خارجہ اس بات پر غور کریں گے کہ ہم روس کی اس بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا کس طرح جواب دیں۔

نیٹو سیکرٹری جنرل کے مطابق تیسرا اہم موضوع جو اس اجلاس میں گفتگو کیلئے ایجنڈے کا حصہ ہوگا وہ دنیا میں چین کے عروج کے باعث طاقت کے توازن میں تبدیلی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ چین ہمارا مخالف نہیں ہے۔ اس کا عروج ہماری معیشت اور تجارت کیلئے اہم موقع ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ہماری سیکیورٹی کیلئے ایک چیلنج بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اپنے نئے اور جدید ہتھیاروں پر وسیع سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وہ آرکیٹیک سے لیکر افریقہ تک حتٰی کہ ہمارے ہی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ساتھ ہمارے قریب آتا جا رہا ہے۔

نیٹو سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چین ہماری اقدار کا حصہ دار نہیں۔ وہ نہ خود انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی دوسرے ممالک پر اس بات کیلئے زور دیتا ہے۔ اس لئے نیٹو اتحادیوں اور ہماری طرح ہی کی سوچ رکھنے والوں کو اس بات پر مشترکہ سوچ بچار کرنا ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو