سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے: چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دریاؤں اور نہروں کے کنارے شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جتنا بھی فنڈ چلا جائے لگتا کچھ نہیں، سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کے معاملات اور طرح سے چلتے ہیں، ڈاکو پکڑنے کے نام پر لاڑکانہ اور سکھر کے بیچ جنگل کاٹا گیا، سندھ پولیس ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑ سکی۔

عدالت نے سیکرٹری جنگلات سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنگلات اور ایریگیشن سندھ کے لوگ جیل جائیں گے اور نوکری سے بھی جائیں گے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری جنگلات سندھ سمیت عدالت میں نہ پیش ہونے والوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردئیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو