ماسک پہننے سے متعلق غلط فہمیاں اور حقائق

کورونا وائرس کی وباء سے تحفظ کے طورپر ماسک کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

اگرچہ طبی ماہرین ویکسین کی دستیابی تک ماسک اور سماجی دوری کو ہی کورونا وائرس کی وباء سے بچاؤ کا ذریعہ تصور کرتے ہیں تاہم اس سب کے باوجود ماسک پہننے سے متعلق آج بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں مثلاً

٭وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ماسک کتنا محفوظ اور کتنا مؤثر ہے؟

٭ماسک کی ضرورت کب اور کہاں ہوتی ہے ؟

٭ماسک کا صحیح استعمال کیسے کیا جائے؟

تو آئیے جانتے ہیں اس حوالے سے کیا حقیقت ہے اور کیا غلط فہمی؟

غلط فہمی :کپڑے کے ماسک تحفظ فراہم نہیں کرتے

فائل:فوٹو

حقیقت : اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ سرجیکل ماسک کے برعکس کپڑے کا ماسک کورونا وائرس سے تحفظ فراہم نہیں کرتا لیکن درحقیقت کپڑے کا ماسک بھی کورونا وائرس سے بچانے میں مؤثر ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کپڑے کا ماسک ناک اور منہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کرتا ہے جس کے تحت کھانسنے ،چھینکنے اور بات کرنے کے دوران وائرس کے ذرات کا پھیلاؤ مزید مشکل ہوجاتا ہے۔

مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماسک وائرس کے بڑے ذرات کو بالواسطہ طور پر چہرے کو چھونے نہیں دیتے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ریاستیں اپنے شہریوں کو ماسک پہننے کی تاکید کررہی ہیں ۔

غلط فہمی :دوسرے ماسک کپڑے کے ماسک سے زیادہ مؤثر ہیں

حقیقت :مختلف قسم کے ماسک مختلف مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کپڑے کے ماسک عام لوگوں کے لیے زیادہ مؤثر ہیں لہٰذا ایسے افراد جو کووڈ مریضوں پر مشتمل کسی اسپتال میں کام نہیں کرتے وہ کپڑے کے ماسک کا استعمال بآسانی کرسکتے ہیں۔

ماسک کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعمیر کاسبب بنتے ہیں

فائل:فوٹو

حقیقت : اکثر افراد کو لگتا ہے کہ ماسک کے ذریعے منہ اور ناک کو ڈھانپنے سے جسم کو آکسیجن کی کمی یا منہ سے خارج سانس کو ہی دوبارہ اندر کھینچنے کا امکان ہوجاتا ہے۔

درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ مسام دار ہونے کے سبب کپڑے کے ماسک میں بھی ہوا کا گزربآسانی ہوجاتا ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جمع ہونا ناممکن ہوجاتا ہے۔

تاہم سانس کے مریضوں، دو سال سے کم عمر بچوں اور وہ افراد جو کسی مدد کے بغیر ماسک نہیں ہٹاسکتے انہیں ماسک پہننے سے گریز کرنا چاہیے۔

غلط فہمی:ماسک پہننے کا طریقہ کار اہمیت نہیں رکھتا

فائل:فوٹو

حقیقت: مؤثر طریقہ سے پہنا گیا ماسک کورونا وائرس سے تحفظ کی کنجی تصور کیا جاتا ہے۔

سینٹرل فور ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کپڑے کے ماسک کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کریں۔

*ناک اور منہ کو ڈھانپیں۔

*ماسک چہرے پر مضبوطی سے فکس ہو مگر آرام دہ ہو۔

*ماسک کو کانوں کے لیے بنائے گئے لچکدار کنڈل سے پکڑ کر پہنیں۔

* ماسک میں بلا روک ٹوک سانس لینے کی گنجائش ہو۔

*کپڑے کے ماسک کے دوبارہ استعمال کے لیے اسے بیگ میں رکھیں اور دوبارہ استعمال سے قبل 60 ڈگری پر دھوئیں۔

غلط فہمی : بیمار ہونے کی صورت ہی آپ کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے

حقیقت: سی ڈی سی کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کے بعض مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور ایسے افراد ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا آسان ہدف ہوسکتےہیں جن سے بیماری غیر دانستہ طور پر دوسروں کو بھی لگ سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہاتھ دھونے، سماجی دوری اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کو ماسک پہنے کی تاکید کرتے ہیں ۔

غلط فہمی : اگر آپ گھر پر ہیں تو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں

فائل:فوٹو

حقیقت : اگرچہ کچھ حد تک اس بات میں سچائی ہے لیکن بیماری یا پھر ہلکی علامات پائے جانے کی صورت اہل خانہ کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے آپ کو گھر میں بھی ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب گھر سے دور رہنے کے بجائے اہل خانہ سے سماجی دوری اختیار کریں، ساتھ ہی قرنطینہ ہوئے کمرے سے نکلتے وقت گھر میں بھی ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو