امریکی صحرا سے ملنے والا پراسرار دھاتی ڈھانچہ اچانک غائب ہوگیا

امریکی ریاست یوٹاہ کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع دور دراز صحرا میں 2 ہفتے قبل ملنے والا چکمدار پُراسرار دھاتی ڈھانچہ اچانک غائب ہوگیا جس نے معاملے کو مزید پُراسرار بنا دیا ہے۔

18 نومبر کو یوٹاہ کے ریڈ راک (لال پتھریلے) صحرا میں حکام کو یہ چمکیلا ڈھانچہ اس وقت نظر آیا تھا جب وہ اس علاقے میں پائی جانے والی جنگلی بھیڑوں کی گنتی کررہے تھے۔

پراسرار چمکیلے دھاتی ڈھانچے کو دیکھ کر عملے کے افراد ہیلی کاپٹر سے اتر کر اس کے قریب گئے اور اس کا جائزہ لیا، اہلکاروں کے مطابق تقریباً 12 فٹ بلند کسی بالغ شخص کے قد سے دگنا یہ ستون نما ڈھانچہ زمین میں مضبوطی سے نصب کیا گیا تھا۔

ریاستی عملے کے افراد ہیلی کاپٹر سے اتر کر اس کے قریب گئے اور اس کا جائزہ لیا، فوٹو: اے پی

بعد ازاں اس ڈھانچے کی تصاویر اور ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئیں اور دنیا بھر میں لوگ اس پر قیاس آرائیاں کرنے لگے، کسی نے اس کو خلائی مخلوق کی کارستانی قرار دیا تو کسی نے اسے 1968ء کی ایک سائنس فکشن فلم ‘ ‘2001ء، اے اسپیس اوڈیسی’ کے ایک منظر سے مشابہہ قرار دیا ، جب کہ بعض افرادکاکہنا تھاکہ یہ کسی فنکار کا فن پارہ ہے۔

حکام کی جانب سے اس پراسرار ستون نما ڈھانچے کے مقام کو خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ متجسس افراد کی اس تلاش میں اس جگہ نہ پہنچ جائیں۔

وفاقی بیورو آف لینڈ منیجمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ عوامی جگہ پرغیر قانونی طور پر نصب کیاگیا وہ پراسرار ڈھانچہ نامعلوم افراد کی جانب سےہٹالیاگیا جب کہ ریاستی حکام کو بھی اس حوالے سے خبر نہیں ہے کہ وہ ڈھانچہ کہاں گیا۔

پراسرار ڈھانچے کے غائب ہونے کے بعد قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور سوشل میڈیا پر بعض افرادکاکہنا ہے کہ خلائی مخلوق اسے واپس لے گئی ہے۔

آرٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا دعویٰ ہےکہ یہ ایک فن پارہ تھا جسے 2011ء میں انتقال کر جانے والے مشہور فنکار جان میک کراکن نے تخلیق کیا تھا اور اس بات کو تقویت ان کے بیٹے پیٹرک میک کراکن کے بیان سے ملتی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے 2002ء میں ان سے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فن پارہ کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ جائیں جسے کافی عرصے بعد دریافت کیا جاسکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو