جب بھارتی جرنیلوں نے پاکستان پر ’’چوتھی جنگ‘‘مسلط کی!

75 سالہ وجاہت حبیب اللہ بھارت کے نامور ریٹائرڈ اعلی سرکاری افسر ہیں۔ انہیں 2002ء میں بھارت کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ والد‘ عنایت حبیب اللہ بھارتی فوج کے میجر جنرل رہے جن کا تعلق یوپی کے مشہور تعلقہ دار خاندان سے تھا۔

وجاہت حبیب اللہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طویل عرصہ ڈیرہ دون میں واقع اسکولوں میں اندرا گاندھی کے دونوں بیٹوں‘ راجیو اور سنجے کے ہم جماعت رہے۔ ان کے خاندان بھی آپس میں ملتے جلتے تھے۔ جب وجاہت حبیب اللہ سرکاری افسر بنے‘ تو وہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی‘ دونوں بھارتی وزرائے اعظم کے مددگار اور معاون رہے۔

وجاہت حبیب اللہ صاحب کا تفصیلی تعارف اس لیے کرایا گیا تاکہ قارئین جان سکیں‘کہ وہ عام شخصیت نہیں اور ان کی باتیں وزن رکھتی ہیں۔حال ہی میں وجاہت حبیب اللہ کی انگریزی کتاب’’My Years with Rajiv: Triumph and Tragedy‘‘ بھارت میں طبع ہوئی ہے۔ اس میں انہوںنے راجیوگاندھی کے ساتھ گزرے اپنے وقت کا احوال بیان کیا ہے۔ کتاب میں کئی انکشافات سنسنی خیز اور چونکا دینے والے ہیں۔ ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ وزیراعظم راجیو گاندھی اس بات سے بے خبر تھے کہ بھارتی افواج کے کمانڈروں نے راجستھان میں ’’آپریشن براسٹیکس‘‘ شروع کر رکھا ہے۔وجاہت حبیب اللہ لکھتے ہیں:

’’دسمبر 1986ء میں راشٹرپتی بھون (رہائش گاہ بھارتی صدر) میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں بھارتی فوج کی ویسٹرن کمانڈ کا چیف‘ لیفٹیننٹ جنرل پی این ہون بھی شریک تھا۔ وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے دیکھا تو اس کی طرف لپکے اور خوش مزاجی سے پوچھا: ’’جنرل‘ ویسٹرن فرنٹ پر کیا چل رہا ہے؟‘‘

’’لیفٹیننٹ جنرل ہون انہیں آپریشن براسٹیکس کے متعلق بتانے لگا۔ میں قریب ہی کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم اسے ہونقوں کی طرح گھور رہے ہیں۔ جب جنرل ہون اپنی بات ختم کر چکا تو راجیو گاندھی نے کہا’’آپ کس آپریشن کی بات کر رہے ہیں جنرل؟‘‘ اس پر جنرل ہون نے آپریشن براسٹیکس کی مزید تفصیل وزیراعظم کو بتائی۔

’’اس وقت مجھے احساس ہوا کہ راجیو گاندھی وزیراعظم بھارت ہونے کے باوجود نہیں جانتے کہ بھارتی جرنیلوں نے راجستھان میں بہت بڑی جنگی مشقوں کا پروگرام بنا رکھا ہے اور یہ کہ مستقبل میں ان مشقوں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت چوتھی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔‘‘

بھارت کی طاقتور ملٹری
راجیو گاندھی کے بااعتماد ساتھی کا درج بالا انکشاف بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وجہ یہ کہ دنیا بھر میں مشہور ہے‘ بھارت میں افواج سول حکومت کے ماتحت ہیں۔ بھارتی جرنیل عام طور پر سول لیڈر شپ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ مگر وجاہت صاحب کے انکشاف سے عیاں ہے‘ بھارتی جرنیلوں نے اپنے ہی وزیراعظم کو اندھیرے میں رکھ کر ملک و قوم کو پڑوسی مملکت سے نئی جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ اس سچائی سے ثابت ہے کہ بھارت میں جرنیل حکومت کے معاملات میں بہت عمل دخل رکھتے ہیں مگر بھارتی اسٹیبلشمنٹ اس سچائی کو ظاہر نہیں ہونے دیتی۔ اسے خطرہ ہے کہ یہ سچ سامنے آنے پر بین الاقوامی سطح پر ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کے دامن پر دھبّہ لگ جائے گا۔ اور یہ کہ عالمی سطح پر اس کا مقام متاثر ہو گا۔

بھارتی ایٹم بم موجود نہ تھا
کئی عسکری ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارتی جرنیل راجیو گاندھی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک وجہ یہ ہے کہ راجیو گاندھی وزیراعظم بن کر اس روایت کے حق میں نہیں تھا، بھارتی افواج کو جدید ترین اسلحے سے لیس کرنے اور لاکھوں فوجیوں کا تام جھام برقرار رکھنے کی خاطر انہیں ہر سال کھربوں روپے دیئے جائیں۔ وہ بھارت سے غربت و جہالت کے خاتمے کو مقدم رکھنے کا خواہش مند تھا۔ بعض بھارتی مشہور شخصیات تو دعویٰ کرتی ہیں کہ راجیو گاندھی ایٹم بم بنانے کا بھی مخالف تھا۔

بی جی دیش مکھ راجیو گاندھی دور میں 1986ء تا 1989ء بھارت کا کیبنٹ سیکرٹری رہا۔ 1989ء میں راجیو گاندھی نے اسے اپنا پرنسپل سیکرٹری بنا لیا۔ وہ پھر اگلے وزرائے اعظم‘ وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کا بھی پرنسپل سیکرٹری رہا۔گویا یہ آدمی معمولی ہستی نہیں۔چوبیس سال قبل دیش مکھ نے ایک انگریزی مضمون لکھا جو بھارتی رسالے ،انڈیا ٹو ڈے کی اشاعت28 فروری 1994ء میں شائع ہوا۔ اس میں دیش مکھ لکھتا ہے:

’’جب آپریشن براسٹیکس (Operation Brasstacks)کا آغاز ہوا تو پاکستانی حکومت کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یقین تھا کہ بھارتی جرنیل پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔تب بھارتی فوج کے آپریشنل (او پی) روم میں ہمیں کئی بریفنگیں دی گئیں۔ پتا چلا کہ پاکستان نے اپنی فوج (پاکستانی) پنجاب میں جمع کر دی ہیں۔

یوں پاکستان بھارت کو مجبور کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنی بیشتر فوج بھارتی پنجاب میں لے آئے۔ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ پاکستانی صدر ‘ جنرل ضیا الحق اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ رات گئے تک میٹنگیں کر رہے ہیں۔ ایک میٹنگ میں یہ تجویز زیر بحث آئی کہ بمبئی میں واقع بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر فضائی حملہ کر کے تباہ کر دیا جائے۔ بمبئی کے قریب سمندر میں تیل و گیس کے بھارتی کنوؤں کو تارپیڈو مار کر تباہ کرنے کا بھی منصوبہ بنا۔ لیکن ان تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوا جو قابل تحسین بات ہے۔

’’سچ یہ ہے کہ تب تک ہم (بھارتیوں) نے کسی قسم کا ایٹمی ہتھیار نہیں بنایا تھا۔ میں 1986ء سے 1990ء تک بھارتی ایٹمی منصوبے سے منسلک رہا ہوں۔ لہٰذا میرے دعویٰ کا سب کو یقین ہونا چاہیے(کہ 1986ء میں بھارت ایٹم بم نہیں رکھتا تھا۔) اگرچہ 1975ء سے بھارتی جرنیل سول حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ جلد ایٹم بم بنا لیا جائے۔

مجھے یاد ہے‘ 1987ء میں جنرل کے سندر جی (کمانڈر بھارتی فوج) نے سول حکومت کو بریفنگ دیتے ہوئے بڑے جوش و جذبے سے کہا تھا کہ بھارت کو ایٹمی ہتھیار بنا لینے چاہیں۔وزیراعظم راجیو گاندھی مگر بضد تھے کہ بھارت کو ایٹم بم نہیں بنانا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے مسائل حل نہیں ہوتے… البتہ یہ ہتھیار آخری چارہ کار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے بھارتی افواج کو حکم دے رکھا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ایسے عسکری پلان بنائے جائیں جن سے دشمنوں کو شکست دی جاسکے۔‘‘

بھارتی جرنیلوں کی سازش
بھارت کے سابق وزیرخزانہ اور مشہور کانگریسی لیڈر‘ پی چدامبرم نے بھی مختلف مواقع پر تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ راجیو گاندھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے مخالف تھے۔ اور یہ کہ انہوں نے بھارتی جرنیلوں کو ایٹم بم نہیں بنانے دیا۔ ان گواہیوں سے عیاں ہے کہ بھارتی جرنیلوں نے ’’آپریشن براسٹیکس‘‘ کی اصل ماہیت اور حقیقی ٹارگٹ کو اپنے وزیراعظم سے پوشیدہ رکھا اور انہیں عام جنگی مشقیں قرار دیا۔ سچ یہ ہے کہ اس آپریشن کے ذریعے بھارتی جرنیلوں نے پاکستان پر چوتھی جنگ مسلط کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔

جنگ سے بھارتی جرنیل کئی مقاصد حاصل اور اپنے مفادات پورا کرنا چاہتے تھے۔ ایک مقصد یہ تھا کہ جنگ کے بعد راجیو گاندھی کی سول حکومت کو لا محالہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت دینا پڑے گی تاکہ دشمن کے خطرے کا مقابلہ ہو سکے۔ دوسرا بڑا مقصد پاکستانی ایٹمی منصوبے کی تنصیبات کو فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کرنا تھا۔ خصوصاً کہوٹہ کا ایٹمی مرکز بھارتی جرنیلوں کے خاص نشانے پر تھا۔ جبکہ تیسرا بڑا مقصد ضرورت پڑنے پہ راجیو گاندھی حکومت کا بوریا بستر ہی گول کردیا جاتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو